عقیدہ ٔسادسہ (۶) :
عشرہ مبشرہ و خلفائے اربعہ(1)
اب ان سب میں افضل وا علیٰ و اکمل حضرات عَشْرۂ مُبَشَّرَہ ہیں ، وہ دس ۱۰ صحابی جن کے قَطْعِی جنتی ہونے کی بِشارت وخوشخبری رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ان کی زندگی ہی میں سنادی تھی وہ عَشْرَہ مُبَشَّرَہ کہلاتے ہیں ،(2) یعنی حضرات خلفائے ۱ تا۴اَرْبَعہ(3)
________________________________
1 - چھٹا عقیدہ دس جنتی صحابہ کے بارے میں ہے جن میں چاروں خلفائے راشدین بھی شامل ہیں ۔
2 - تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سب سے افضل واعلیٰ وہ دس خوش نصیب صحابہ ہیں جن کے جنتی ہونے کی خوشخبری خود سرورِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دی جیسا کہ حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں ، عثمان جنتی ہیں ، علی جنتی ہیں ، طلحہ جنتی ہیں ، زبیر جنتی ہیں ، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں ، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں ، سعید بن زید جنتی ہیں ، ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں ۔ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ)(ترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب عبدالرحمٰن بن عوف۔۔۔الخ، ۵/۴۱۶، حدیث: ۳۷۶۸)
3 - خلفاءِ اربعہ راشدین (چاروں راہ دکھلانے والے خلیفہ)یعنی امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابو بکرصدیق و حضرت سیدنا عمر فاروق، حضرت سیدناعثمان غنی، حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ہیں ، جیسا کہ روایت میں ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : (عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ) تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوط پکڑو۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام۔۔۔الخ،الفصل الثانی،۱/۵۳، حدیث:۱۶۵) حافظ ابن عبد البر قرطبی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسَلَّم کے اس فرمان: ’’تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت مضبوط پکڑو۔‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں : ’’وَہُمْ اَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِیُّ فَسَمَّاہُمْ خُلَفَائٌ ‘‘ اس سے مراد حضرت سیدنا ابو بکر وعمر وعثمان وعلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ہیں اور انہیں کا نام خلفاء ہے۔(التمہید لابن عبدالبر،باب المیم،محمد بن شہاب الزہری،۳/۴۸۵)