کے خلاف اسلامی تعلیمات کے مُقابل، اپنی خواہشات کے اِتباع میں ، کوئی نئی راہ نہ نکالی، اور وہ بدنصیب کہ اس سعادت سے محروم ہو کر اپنی دکان الگ جما بیٹھے(1) اور اہلِ حق کے مقابل قتال پر آمادہ ہوگئے وہ ہرگز اس کا مصداق نہیں ، اس لیے علماء ِکرام فرماتے ہیں کہ ’’جنگ ِجَمَل وصِفِّیْن میں جو مسلمان ایک دوسرے کے مُقابل آئے ان کا حکم خطائے اِجتہادی کا ہے،(2) لیکن اَہلِ نَہْرَوَان جو مولا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی تکفیر کر کے(3) بَغَاوت(4) پر آمادہ ہوئے وہ یقینا فُسَّاق، فُجَّار، طاغی وباغی تھے(5)اور ایک نئے فرقہ کے ساعی و ساتھی،(6) جو خَوَارِج کے نام سے موسوم ہوا،(7)اور اُمّت میں نئے فتنے اب تک اسی کے دم سے پھیل رہے ہیں ۔‘‘ (سراج العوارف وغیرہ)
________________________________
1 - یعنی اپنا الگ گروپ بنالیا۔
2 - یعنی غور وخوص میں غلطی کرجانے کا ہے۔ یاد رکھیں خطا دو قسم کی ہے:(۱) خطا عِنادی، یہ مجتہد کی شان نہیں ، (۲)اور خطا اِجتہادی، یہ مجتہد سے ہوتی ہے اور اِس میں اُس پر عِنْدَاللّٰہ اصلاً مُؤاخَذہ نہیں ، مگر احکامِ دنیا میں وہ دو قسم کی ہے: (۱)خطا مقرر کہ اس کے صاحب پر انکار نہ ہو گا، یہ وہ خطا اجتہادی ہے جس سے دین میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہوتا ہو، جیسے ہمارے نزدیک مقتدی کا امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا، (۲)دوسری خطا منکَر، یہ وہ خطا اجتہادی ہے جس کے صاحب پر انکار کیا جائے گا، کہ اس کی خطا باعث ِفتنہ ہے،حضرت امیرِ معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا حضرت سیّدنا امیرالمومنین علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے خلاف اسی قسم کی خطا کا تھا اور فیصلہ وہ جو خود رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسَلَّم نے فرمایا کہ مولیٰ علی کی ڈِگری (یعنی ان کے حق میں فیصلہ) اور امیر ِمعاویہ کی مغفرت۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن۔(بہارِ شریعت، ۱/۲۵۶بتصرف)
3 - انہیں کافر کہہ کر۔
4 - سرکشی ونافرمانی۔
5 - گناہ گار، بدکار، سرکش اور نافرمان تھے۔
6 - کوشش کرنے والے۔
7 - وہ جو خلفائے راشدین میں سے حضرتِ علیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نہ ماننے والا مشہور ہوا۔