کا کام نہیں ۔رب عَزَّوَجَلَّ نے اسی آیت ِ’’حدید‘‘ میں اس کا منہ بھی بند کر دیا کہ دونوں فریق صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمادیا: { وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ}’’اور اللّٰہ کو خوب خبر ہے جو تم کرو گے۔‘‘(1) بایں ہمہ(2) اس نے تمہارے اَعمال جان کر حکم فرما دیا کہ وہ تم سب سے جنت بے عذاب و کرامات و ثواب بے حساب(3) کا وعدہ فرما چکا ہے، تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر طعن کرے، کیا طعن کرنے والااللّٰہ تَعَالٰی سے جُدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے؟ اس کے بعد جو کوئی کچھ بکے وہ اپنا سر کھائے اور خود جہنم میں جائے۔ علامہ شِہَابُ الدِّین خفاجی ’’نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جو حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر طعن کرے وہ جہنم کے کُتّوں میں سے ایک کُتّا ہے۔‘‘(4) (’’احکامِ شریعت ‘‘وغیرہ) (5)
تنبیہ ضروری:
اہلِ سنّت و جماعت کا یہ عقیدہ کہ ’’وَ نَکُفُّ عَنْ ذِکْرِ الصَّحَابَۃِ اِلَّا بِخَیْرٍ‘‘ ’’یعنی صحابہ کرام کا جب بھی ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔‘‘ اِنہیں صحابہ کرام کے حق میں جو ایمان و سنت و اسلامِ حقیقی پر تادمِ مرگ(6) ثابت قدم رہے اور صحابہ کرام جُمہُور(7)
________________________________
1 - پ۲۷، الحدید: ۱۰۔
2 - ان تمام باتوں کے باوجود۔
3 - بغیر کسی دکھ تکلیف کے جنت اور بے انتہا انعامات وبخششوں ۔
4 - نسیم الریاض، القسم الثانی فیما یجب علی الانام۔۔۔الخ، ۴/۵۲۵۔
نسیم الریاض میں الفاظ یوں ہیں :
وَمَنْ یَّکُنْ یَطْعَنُ فِیْ مُعَاوِیَۃَ فَذَاکَ کَلْبٌ مِنْ کِلَابِ الْھَاوِیَۃِ
5 - احکام شریعت، حصہ اول، ص۹۰۔
6 - مرتے دم تک۔
7 - کثیر جلیل القدر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ۔