Brailvi Books

دس عقیدے
91 - 193
 لیا، ان اہلِ ایمان نے اس وقت اپنے اخلاص کا ثبوت جہادِ مالی و قِتَالی سے دیا جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرتِ تعداد اور جاہ و مال(1) ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے، اجر اُن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ اِن ’’سابقون اوّلون‘‘ کے درجہ کا نہیں  ، اسی لیے قرآن عظیم نے ان پہلوں   کو ان پچھلوں   پر تفضیل دی اور پھر فرمایا: { كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى}(2) ’’ان سب سے اللّٰہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔‘‘ کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کو، محروم کوئی نہ رہے گا۔ اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں   فرماتا ہے: (3) { اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ} ’’وہ جہنم سے دُور رکھے گئے ہیں  ۔‘‘ {لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا} ’’وہ جہنم کی بِھْنَک(4)       تک نہ سُنیں   گے۔‘‘ { وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ} ’’وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی(5) مرادوں   میں   رہیں   گے۔‘‘ { لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ } ’’قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں   غمگین نہ کرے گی۔‘‘ { وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ} ’’فرشتے ان کا استقبال کریں   گے۔‘‘  { هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ }’’یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔‘‘
	رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّم کے ہر صحابی کی یہ شان اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اللّٰہ واحِد قَہّار کو جھٹلاتا ہے، اور ان کے بعض معاملات جن میں   اکثر حکایاتِ کَاذِبَہ(6) ہیں   ارشادِ الٰہی کے مقابِل  پیش کرنا(7)  اہلِ اسلام 



________________________________
1 -    قدرومنزلت اور مال و دولت میں  ۔
2 -    پ۲۷، الحدید:۱۰۔
3 -    پ۱۷، الانبیاء:۱۰۲۔
4 -    ہلکی سی آواز۔
5 -    پسند کی، مرضی کی۔
6 -    جھوٹے قصے کہانیاں  ۔
7 -    اللّٰہ تَعَالٰی کے فرمان کے مقابلے میں   پیش کرنا۔