Brailvi Books

دس عقیدے
90 - 193
	اَللّٰھُمَّ(نَسْاَلُکَ)الثَّبَاتَ عَلَی الہُدٰی اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیُّ الْاَعْلٰی(’’اے اللّٰہ! ہم تجھ سے ہدایت پر ثابت قدمی مانگتے ہیں  ، بے شک تو ہی بلند و برتر ہے۔‘‘)
	صحابہ کرام کے باب میں (1) یاد رکھنا چاہیے کہ (وہ حضرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ انبیاء نہ تھے، فرشتے نہ تھے کہ معصوم ہوں  ، ان میں   سے بعض حضرات سے لغزشیں   صادر ہوئیں(2) مگر ان کی کسی بات پر گرفت اللّٰہ و رسول کے اَحکام کے خلاف ہے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ’’سورۂ حدید‘‘ میں   صحابۂ سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی دو قسمیں   فرمائیں  : {۱}{ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-} {۲}{ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا}(3) یعنی ایک وہ کہ قبل فتحِ مکہ مشرف بایمان ہوئے راہِ خدا میں   مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب کہ ان کی تعداد بھی بہت قلیل تھی، اور وہ ہر طرح ضعیف و دَرْمَانْدَہ(4)    بھی تھے، انہوں   نے اپنے اوپر جیسے جیسے شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں   کو خطروں   میں   ڈال ڈال کر، بے دَریغ(5) اپنا سرمایہ اسلام کی خدمات کی نذر کر دیا، یہ حضرات مہاجرین و انصار میں   سے سَابِقِین اَوَّلِین ہیں  ،(6) ان کے مراتب(7)    کا کیا پوچھنا۔
	دوسرے وہ کہ بعد فتح ِمکہ ایمان لائے، راہِ مولا میں (8)خرچ کیا اور جہا دمیں   حصہ



________________________________
1 -    بارے میں   ۔
2 -    خطائیں   واقع ہوئیں  ۔
3 -    پ۲۷، الحدید:۱۰۔
4 -    کمزوراور غریب۔
5 -    بغیر کسی جھجک کے۔
6 -    وہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سب سے پہلے اِیمان لائے۔
7 -    درجات۔
8 -    اللّٰہ کی راہ میں  ۔