عرضِ مُرَتِّب: امام اہلسنّت امام اَحمد رضا خاں صاحب قادری برکاتی بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗکے رسالۂ مبارکہ ’’اِعْتِقَادُ الْاَحْبَاب‘‘ کی زِیارت و مُطَالَعہ سے یہ فقیر(1) جب پہلی بار حال ہی میں شَرَفیاب ہوا(2) تو معاً (3) خیال آیا کہ بِتَوْفِیْقِہٖ تَعَالٰی(4) اسے نئی ترتیب اوراِجمالی تفصیل کے ساتھ عامَّۃُ النَّاس(5) تک پہنچایا جائے تو اِنْ شَاءاللّٰہُ تَعَالٰی اس سے عوام بھی فیض پائیں ،
________________________________
1 - یعنی حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل خان برکاتی صا حب رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو کہ َصدرُ المدرسین شیخ الحدیث دارالعلوم اَحسن البرکات(زم زم نگر) حیدرآباد(باب الاسلام)سندھ کے علمائے اہل سنت میں سے تھے، جولائی ۱۹۲۰ء میں ضلع علی گڑھ کی مشہور ریاست دادوں سے ملحق جگہ کھریری میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے، 9 مارچ1935 ء کو آپ مدرسہ حافظیہ سعیدیہ میں درسِ نظامی کی پہلی کلاس میں داخل ہوئے، پہلے ہی سال آپ اپنی جماعت میں اوّل رہے اور بعد میں ہر امتحان میں یہی پوزیشن حاصل کرتے رہے، شعبان ۱۳۶۳ھ میں آپ نے دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی اورمفتیٔ اعظم ہند نے سندِ حدیث عنایت فرمائی، علماء واحباب نے آپ کو ’’خلیل ملت‘‘ کا خطاب دیا اور خانقاہ ِ برکاتیہ وخانقاہِ رضویہ سے آپ کو’’ خلیل العلماء‘‘ کا لقب عطا ہوا، آپ نے جو فتاویٰ جاری فرمائے ان کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے، آپ کے تراجم و تصانیف کی تعداد 60 ہے۔آپ کا وصال ۲۸ رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ بمطابق18 جون1985ء کو افطار کے وقت حیدرآبادمیں ہوا اور نمازِ جنازہ میں کم وبیش بیس ہزار افراد نے شرکت کی، حضرت غوث اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اولاد میں سے ایک بزرگ حضرت سخی عبدالوہاب شاہ جیلانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیکی درگاہ شریف جیلانیہ کے احاطہ میں آپ کی آخری آرام گاہ بنی اور آج بھی آپ کا مزار ِ پر انوار مرجع عوام وخواص ہے ۔
2 - مشرف ہوا
3 - فوراً
4 - اللّٰہ تعالٰی کی توفیق سے
5 - عام لوگوں ۔