Brailvi Books

دس عقیدے
88 - 193
	کبھی (حضرت) داؤد (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوراُن کے ایک اُمتی) اُورِیّاہ کا فسانہ(1)     سن پایا   (حالانکہ یہ الزام تھا یہود کا حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام پر، جسے انہوں   نے خوب اُچھالا(2)   اور زبان زدِ عوامُ الناس ہوگیا(3)         حتّٰی کہ بر بنائے شہرت(4)   بِلَا تحقیق و تفتیش ِاَحوال بعض مفسرین نے اس واقعہ کو مِن وعَن(5)  بیان فرما دیا، جب کہ امام رازی فرماتے ہیں(6)           کہ ’’یہ واقعہ میری تحقیق میں   سراسر باطل و لغو ہے۔‘‘(7)  



________________________________
1 -    قصہ۔
2 -    مشہور کیا۔
3 -    تمام لوگوں   میں   مشہور ہوگیا۔
4 -    شہرت کی بناء پر۔
5 -    جوں   کا توں  ۔
6 -    التفسیر الکبیر، پ۲۳، ص ، تحت الاٰیۃ: ۲۳، ۹/۳۸۰۔
7 -    درست واقعہ کوقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں   یوں   بیان کیا گیا ہے:
اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْۚ-خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ(۲۲)اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ- لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ- فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ(۲۳)قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْؕ-
 ترجمۂ کنزالایمان: جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تووہ ان سے گھبراگیا، انہوں   نے عرض کی ڈرئیے نہیں   ہم دو فریق ہیں   کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے ، توہم میں   سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلافِ حق نہ کیجئے اور ہمیں  سیدھی راہ بتائیے، بے شک یہ میرا بھائی ہے اس کےپاس ننانوے دنبیاں   ہیں   اور میرے پاس ایک دنبی ، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں   مجھ پرزور ڈالتا ہے، داؤد نے فرمایا: بے شک یہ تجھ پر زیادتیکرتا ہے کہ تیری دنبی اپنی دنبیوں   میں   ملانے کو مانگتا ہےاور بے شک اکثر ساجھے والے (آپس کے شریک) ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں   مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور وہ بہت تھوڑے ہیں  ۔ (پ۲۳، ص:۲۲تا۲۴)