Brailvi Books

دس عقیدے
87 - 193
	کبھی موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام) و قِبْطی (قومِ فرعون) کا قصہ یاد آیا   (کہ آپ نے قبطی کو آمادۂ ظلم (1)          پاکر ایک گھونسا مارا اور وہ قبطی قَعْر ِگور (2)       میں   پہنچا۔) (3)       



________________________________
1 -    ظلم پر تیار۔
2 -    قبر کے گڑھے ۔
3 -    قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں   اس واقعہ کو یوں   بیان کیا گیا ہے:
وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ ﱪ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖۚ-فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖۙ-فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ ﱪ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ(۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اس شہر میں   داخل ہوا جس وقتشہر والے دوپہر کے خواب میں   بے خبر تھے تو اس میں   دو مردلڑتے پائے ، ایک موسیٰ کے گروہ سے تھا اور دوسرا اس کےدشمنوں   سے ، تو وہ جو اس کے گروہ سے تھا اس نے موسیٰ سےمدد مانگی اُس پر جو اس کے دشمنوں   سے تھا تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کردیاکہا یہ کام شیطان کی طرف سے ہوابے شک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا۔ (پ۲۰، القصص:۱۵)
اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام جوان ہوگئے تو وہ ایک دن شہر میں   جارہے تھے انہوں   نے دو آدمیوں   کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک بنی اسرائیل میں   سے تھا اور دوسرا فرعون کی قوم سے یعنی قِبْطی، یہ قبطی اسرائیلی پر جبر کررہا تھا تاکہ اس پر لکڑیوں   کا انبار لاد کر فرعون کے باورچی خانے میں   لے جائے، اسرائیلی نے فرعونی کے خلاف حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے مدد طلب کی، پہلے تو حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے قبطی سے کہا کہ اسرائیلی پر ظلم نہ کراس کو چھوڑ دے لیکن وہ باز نہ آیا اور بد زبانی کرنے لگاتو حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کو اس ظلم سے روکنے کے لیے ایک گھونسا مارا ، تو وہ شخص مرگیا، آپ کا ارادہ اس کو قتل کرنے کا نہیں   تھا ، تب حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا : یہ کام شیطان کی طرف سے سرزد ہوا،یہ کلام حضرت سیدنا موسی عَلَیْہِ السَّلَام  کا بطورِ عاجزی ہے کیونکہ آپ سے کوئی گناہ و معصیت سرزد نہیں   ہوئی اور انبیاء معصوم ہیں   ان سے گناہ نہیں   ہوتے، قبطی کا مارنا آپ کا دفعِ ظلم اور مظلوم کی امداد کرنا تھا یہ کسی ملت میں   بھی گناہ نہیں   پھر بھی اپنی طرف تقصیر کی نسبت کرنا اور اِستغفار چاہنا مُقَرَّبین یعنی نیک لوگوں   کا دستور رہا ہے۔ملخصاً من تفاسیر وخزائن العرفان۔