Brailvi Books

دس عقیدے
86 - 193
 (خاصانِ پَرْوَرْدَگار) ہیں  ،(1) اور ان (مُشاجَرَات و نِزَاعات(2)      کی) تفاصیل پر نظر گمراہ کرنے والی ہے، نظیر اس کی عِصْمَتِ انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلَوٰۃُ وَ الثَّنَاء ہے(3)          کہ اہل ِحق (اہلِ اسلام، اہلسنّت وجماعت)  شاہراہِ عقیدت(4)  پر چل کر (منزل) مقصود(5)    کو پہنچے، اور اَربابِ (غَوَایت واَہلِ) باطل(6)      تفصیلوں   میں   خوض (وناحق غور) (7)       کر کے مَغَاکِ (ضلالت(8) اور) بد دینی (کی گمراہیوں  ) میں   جا پڑے۔
	کہیں   دیکھا: { وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى}(9) (کہ اس میں   عِصیاں(10)  اور بظاہر تعمیل ِحکمِ ربّانی سے رُو گردانی(11)        کی نسبت حضرت آدم  عَلَیْہِ السَّلَام کی جانب کی گئی ہے۔) کہیں   سنا: { لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ }(12) (جس سے ذَنب یعنی گناہ و غفرانِ ذنب یعنی بخششِ گناہ کی نسبت کا حضورِ اَقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی جنابِ والا کی جانب گمان ہوتا ہے۔)



________________________________
1 -    خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں  ۔
2 -    باہمی رنجشوں  ۔
3 -    اس کی مثال انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے گناہوں   سے پاک ہونے کی ہے۔
4 -    خلوص ومحبت کے راستے۔
5 -    اصل مراد۔
6 -    گمراہ اور جھوٹے لوگ۔  
7 -    بے فائدہ سوچ بچار۔
8 -    گمراہی کے گڑھے۔
9 -    ترجمۂ کنزالایمان: اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں   لغزش واقع ہوئی ، تو جو مطلب چاہاتھا اس کی راہ نہ پائی۔ (پ۱۶، طہ:۱۲۱)
10 -    نافرمانی۔
11 -    اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کے حکم پر عمل نہ کرنے۔
12 -    ترجمۂ کنزالایمان: تاکہ اللّٰہ   تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں   کے اور تمہارےپچھلوں   کے۔(پ۲۶، الفتح: ۲)