معلوم ہوئی اختیار کی، گو اِجتہاد میں خطا ہوئی(1) اور ٹھیک بات ذہن میں نہ آئی لیکن وہ سب حق پر ہیں (اور سب واجبُ الْاِحْتِرَام) (2) اُن کا حال بِعَیْنِہٖ ایسا ہے جیسا فروعِ مذہب میں (خود علمائے اہلسنّت بلکہ ان کے مجتہدین مثلاً امام اعظم) ابو حنیفہ (و امام) شافعی (وغیرہما) کے اِختلافات، نہ ہرگز ان مُنَازَعَات(3) کے سبب ایک دوسرے کو گمراہ فاسق جاننا، نہ ان کا دشمن ہوجانا (جس کی تائید مولیٰ علی کے اس قول سے ہوتی ہے کہ اِخْوَانُنَا بَغَوْا عَلَیْنَا ’’یہ سب ہمارے بھائی ہیں کہ ہمارے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘(4) مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں ، خدا و رسول کی بارگاہوں میں معظّم و معزز اور آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں ((اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ))۔) (5)
بِالْجُمْلَہ(6) ارشاداتِ خدا وَ رسول عَزَّ مَجْدُہٗ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے (اس پاک فرقہ اہلسنّت و جماعت نے اپنا عقیدہ اور) اتنا یقین کرلیا کہ سب (صحابہ کرام) اچھے اور عدل و ثِقَہ،(7) تَقِی،(8) نَقِی، (9)اَبرار(10)
________________________________
1 - اگرچہ غور وخوض میں خطا ہوئی۔
2 - سب کا احترام لازم۔
3 - اختلافات۔
4 - السنن الکبری، کتاب قتال اہل البغی،باب الدلیل علی ان الفئۃ الباغیۃ،۸/۳۰۰، حدیث:۱۶۷۱۳۔
5 - ترجمہ: ’’میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ۔‘‘ (مشکاۃ المصابیح، کتاب المناقب،باب مناقب الصحابۃ،الفصل الثالث، ۲/۴۱۴، حدیث: ۶۰۱۸)
6 - ساری بات کا حاصل یہ ہے کہ۔
7 - معتبر ۔
8 - پرہیزگار۔
9 - پاک۔
10 - نیکو کار۔