گدائے خاک نشینی تو حافظا مخروش
رموزِ مملکت خویش خسرواں دانند(1)
(تُو خاک نشین گدا گر ہے(2) اے حافظ! شور مت کر کہ اپنی سلطنت کے بھید(3) بادشاہ جانتے ہیں )
( ع تیرا منہ ہے کہ تُو بولے یہ سرکاروں کی باتیں ہیں )
حَاشَا(4) کہ ایک کی طرف داری(5) میں دوسرے کو بُرا کہنے لگیں یا ان نِزَاعوں(6) میں ایک فریق کو دنیا طلب(7) ٹھہرائیں ، بلکہ بِالْیَقِیْن(8) جانتے ہیں کہ وہ سب مَصَالِحِ دِین(9) کے خواستگار تھے(10) (اسلام و مسلمین کی سربلندی ان کا نَصْبُ العَین تھی(11) پھر وہ مجتہد بھی تھے، تو)جس کے اِجتہاد میں (12) جو بات دین ِالٰہی و شرعِ رسالت پناہی جَلَّ جَلَالُـہٗ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے لیے(13) اَصْلَح و اَنسَب (زیادہ مَصْلَحَت آمیز(14)اور اَحوالِ مسلمین سے مناسب تر)
________________________________
1 - ’’دیوان حافظ‘‘، ردیف شین معجمہ۔ ( فتاویٰ رضویہ، ۲۹/۳۵۸)
2 - حقیر سا بھکاری ہے۔
3 - راز۔
4 - خدا نہ کرے۔
5 - حمایت۔
6 - جھگڑوں ۔
7 - دنیا کاحریص۔
8 - یقینی طور پر۔
9 - دین کی بھلائی۔
10 - طلبگار تھے۔
11 - اصل مقصد تھی۔
12 - غوروخوض میں ۔
13 - اللّٰہ کے دین اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شریعت کے لیے ۔
14 - حکمت سے بھر پور۔