Brailvi Books

دس عقیدے
84 - 193
گدائے خاک نشینی تو حافظا مخروش
      رموزِ مملکت خویش خسرواں   دانند(1)
(تُو خاک نشین گدا گر ہے(2) اے حافظ! شور مت کر کہ اپنی سلطنت کے بھید(3) بادشاہ جانتے ہیں  )
 ( ع  تیرا منہ ہے کہ تُو بولے یہ سرکاروں   کی باتیں   ہیں  )
	حَاشَا(4)          کہ ایک کی طرف داری(5) میں   دوسرے کو بُرا کہنے لگیں   یا ان نِزَاعوں(6) میں   ایک فریق کو دنیا طلب(7)   ٹھہرائیں   ، بلکہ بِالْیَقِیْن(8) جانتے ہیں   کہ وہ سب مَصَالِحِ دِین(9) کے خواستگار تھے(10) (اسلام و مسلمین کی سربلندی ان کا نَصْبُ العَین تھی(11) پھر وہ مجتہد بھی تھے، تو)جس کے اِجتہاد میں (12) جو بات دین ِالٰہی و شرعِ رسالت پناہی جَلَّ جَلَالُـہٗ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے لیے(13)  اَصْلَح و اَنسَب (زیادہ مَصْلَحَت آمیز(14)اور اَحوالِ مسلمین سے مناسب تر)  



________________________________
1 -    ’’دیوان حافظ‘‘، ردیف شین معجمہ۔   ( فتاویٰ رضویہ، ۲۹/۳۵۸)
2 -    حقیر سا بھکاری ہے۔
3 -    راز۔
4 -    خدا نہ کرے۔
5 -    حمایت۔
6 -    جھگڑوں  ۔
7 -    دنیا کاحریص۔
8 -    یقینی طور پر۔
9 -    دین کی بھلائی۔
10 -    طلبگار تھے۔
11 -    اصل مقصد تھی۔
12 -    غوروخوض میں  ۔
13 -    اللّٰہ کے دین اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی شریعت کے لیے ۔
14 -    حکمت سے بھر پور۔