Brailvi Books

دس عقیدے
83 - 193
  کو جگہ نہیں   دیتے،(1) (اور تحقیقِ احوالِ واقِعی کے نام کا(2)   مَیل کُچَیْل دل کے آئینے(3) پر چڑھنے نہیں   دیتے)۔
	رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حکم فرما چکے: ((اِذَا ذُکِرَ اَصْحَابِیْ فَاَمْسِکُوْا))، ’’جب میرے اَصحاب کا ذکر آئے تو باز رہو۔‘‘(4) (سُوء عقیدت(5) اور بدگمانی کو قریب نہ پھٹکنے دو، تَحْقِیْقِ حَال و تَفْتِیْشِ مَاٰل میں   نہ پڑو،)(6) ناچار(7) اپنے آقا کا فرمانِ عالی شان اوریہ سخت وعیدیں  ، ہولناک تہدیدیں   (ڈراوے اور دھمکیاں  ) سُن کر زبان بند کرلی اور دل کو سب کی طرف سے صاف کر لیا (اور بِلا چُون و چرا) (8) جان لیا کہ ان کے رُتبے ہماری عقل سے وَراء ہیں  (9) پھر ہم اُن کے معاملات میں   کیا دَخل دیں  ، ان میں   جو مشاجرات (صورۃ ِنزاعات(10) و اِختلافات)     واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون؟     ؎ 



________________________________
1 -    یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمان: ’’اللّٰہ ان سے راضی ہوا‘‘ سن کر دل کے صاف ستھرے آئینے کو چھان بین کے زنگ سے آلودہ نہیں   کرتے۔
2 -    اور نام نہاد حقیقتِ حال کی کھوج کا۔
3 -    فرید بک اسٹال کے مطبوعہ میں   یوں   ہے: (دل کے آبگینہ)۔
4 -    المعجم الکبیر،ثوبان مولی رسول اللّٰہ۔۔۔الخ، ۲/۹۶،حدیث: ۱۴۲۷۔
5 -    بد عقیدگی۔
6 -    واقعات کی چھان بین اور ان کے نتائج کی ٹوہ میں   نہ پڑو۔          
7 -    آخر کار۔
8 -    اگر مگر کیے بغیر۔
9 -    عقل میں   آنے والے نہیں  ۔
10 -    باہمی رنجش۔