کو جگہ نہیں دیتے،(1) (اور تحقیقِ احوالِ واقِعی کے نام کا(2) مَیل کُچَیْل دل کے آئینے(3) پر چڑھنے نہیں دیتے)۔
رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حکم فرما چکے: ((اِذَا ذُکِرَ اَصْحَابِیْ فَاَمْسِکُوْا))، ’’جب میرے اَصحاب کا ذکر آئے تو باز رہو۔‘‘(4) (سُوء عقیدت(5) اور بدگمانی کو قریب نہ پھٹکنے دو، تَحْقِیْقِ حَال و تَفْتِیْشِ مَاٰل میں نہ پڑو،)(6) ناچار(7) اپنے آقا کا فرمانِ عالی شان اوریہ سخت وعیدیں ، ہولناک تہدیدیں (ڈراوے اور دھمکیاں ) سُن کر زبان بند کرلی اور دل کو سب کی طرف سے صاف کر لیا (اور بِلا چُون و چرا) (8) جان لیا کہ ان کے رُتبے ہماری عقل سے وَراء ہیں (9) پھر ہم اُن کے معاملات میں کیا دَخل دیں ، ان میں جو مشاجرات (صورۃ ِنزاعات(10) و اِختلافات) واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون؟ ؎
________________________________
1 - یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمان: ’’اللّٰہ ان سے راضی ہوا‘‘ سن کر دل کے صاف ستھرے آئینے کو چھان بین کے زنگ سے آلودہ نہیں کرتے۔
2 - اور نام نہاد حقیقتِ حال کی کھوج کا۔
3 - فرید بک اسٹال کے مطبوعہ میں یوں ہے: (دل کے آبگینہ)۔
4 - المعجم الکبیر،ثوبان مولی رسول اللّٰہ۔۔۔الخ، ۲/۹۶،حدیث: ۱۴۲۷۔
5 - بد عقیدگی۔
6 - واقعات کی چھان بین اور ان کے نتائج کی ٹوہ میں نہ پڑو۔
7 - آخر کار۔
8 - اگر مگر کیے بغیر۔
9 - عقل میں آنے والے نہیں ۔
10 - باہمی رنجش۔