کے نیم صاع (تقریباً دو کلو) جَو کے برابر نہیں ، (1) جو قُربِ خدا اِنہیں حاصل دوسرے کو میسر نہیں ، اور جو درجاتِ عالیہ (2) یہ پائیں گے غیر کو ہاتھ نہ آئیں گے، (اہلسنّت کے خَواص تو خواص، عوام تک) ان سب کو بِالْاِجْمَال (کہ کوئی فرد ان کا شُمُول (3) سے نہ رہ جائے ، اَز اَوّل تا آخر ) پَرلے درجے (4) کا ’’بِرّ‘‘ و ’’تقی‘‘ (نیکو کار ومتقی) جانتے اور تفاصیلِ احوال (کہ کس نے کس کے ساتھ کیا کیا اور کیوں کیا، اس) پر نظر حرام مانتے (ہیں )،جو فعل (ان حضراتِ صحابۂ کرام میں سے) کسی کا اگر ایسا منقول بھی ہوا (5)جو نظر ِقاصِر (و نِگاہ کوتاہ بیں ) (6) میں ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ٹھہرے (اور کسی کوتاہ نظر (7) کو اس میں حرف زنی (8) کی گنجائش ملے) اسے مَحْمِلِ حَسَن (9) پر اُتارتے ہیں ، (اور اسے ان کے خلوصِ قلب و حُسْنِ نیّت (10) پر مَحْمُول کرتے ہیں ) اور اللّٰہ کا سچا قول ’’ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ ‘‘(11) سُن کر آئینۂ دل میں زنگِ تفتیش
________________________________
1 - جیسا کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی اُحدپہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک ’’ مُد‘‘ تو کیا، آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،باب قول النبی لو کنت متخذا ۔۔۔الخ، ۲/۵۲۲، حدیث:۳۶۷۳)
2 - بلند درجات۔
3 - شامل ہونے۔
4 - اعلیٰ درجے۔
5 - کتبِ احادیث میں یا سیرت وتاریخ کی کتابوں میں ۔
6 - صرف خامیاں دیکھنے والی آنکھ ۔
7 - تنگ نظر۔
8 - نکتہ چینی ۔
9 - اچھے معنی۔
10 - دل کے اخلاص اور اچھے ارادے۔
11 - اللّٰہ ان سے راضی ہوا۔