Brailvi Books

دس عقیدے
80 - 193
کہ یہ دشمنی در حقیقت رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے دشمنی ہے اور ان کی ایذاء حق تبارک و تعالیٰ کی ایذاء، (اور جہنم کا دائمی عذاب جس کی سزا)، (1)  مگر اے اللّٰہ! تیری برکت والی رحمت اور ہمیشگی والی عنایت اس پاک فرقہ اہل سنّت و جماعت پر جس نے تیرے محبوب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے سب ہم نشینوں  (2) اور گلستانِ صحبت کے گُل چِینوں  (3)   کو (ہمیشہ ہمیش کسی اِستِثناء کے بغیر) نگاہِ تعظیم و اِجلال (اور نظر ِتکریم و توقیر) سے دیکھنا اپنا شِعار و دِثار  (اپنی علامت و نشان) کرلیا اور سب کو چرخِ ہدایت(4) کے ستارے  اور فلکِ عزت(5) کے سیّارے جاننا عقیدہ کر



________________________________
1 -    جیسا کہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں   اللّٰہ تبارک وتعالٰی کا فرمانِ عالیشان ہے: 
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان :بے شک جو ایذا دیتے ہیں   اللّٰہ اوراُس کے رسول کو اِن پر اللّٰہ کی لعنت ہے دُنیااور آخرت میں  ، اور اللّٰہ نے اِن کیلئے ذِلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔
 (پ۲۲، الاحزاب:۵۷)
اِ س آیت ِکریمہ کی تفسیر میں   حکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ’’ نور العرفان‘‘ میں   فرماتے ہیں  : ’’اِس سے معلوم ہوا کہ جس کام سے حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کو ایذا پہنچے حرام ہے اگرچہ بظاہر وہ عبادت ہی ہو، لہٰذا اگر حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  کو کسی وقت کسی نماز سے ایذا پہنچے تو وہ نماز حرام ہے، اور اگر کسی کے نماز ترک کرنے (چھوڑنے) سے رَاحت پہنچے وہ نماز چھوڑنی فرض ہے، اسی لیے حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خیبر میں   نمازِ عصر حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی نیند پر قربان کرنا اعلیٰ عبادت قرار پایا، اللّٰہ  کو ایذا دِینا یہ ہے کہ اُس کی ایسی صفات بیان کرے جس سے وہ مُنزّہ ہے یا اس کے محبوب بندوں   کو ستائے۔‘‘ (تفسیرنورالعرفان،پ۲۲،الاحزاب،تحت الاٰیۃ:۵۷،ص۶۸۰)
2 -    دوستوں  ۔
3 -    صحبت مصطفیٰ کے باغ سے پھول چننے والوں   یعنی صحابہ کرام۔
4 -    آسمانِ ہدایت۔
5 -    آسمانِ عزت