بادشاہ ہیں اِسی کی طرف ’’توراتِ مقدَّس‘‘ میں اشارہ ہے کہ مَوْلِدُہٗ بِمَکَّۃَ وَمُھَاجَرُہٗ طَیْبَۃَ وَمُلْکُہٗ بِالشَّامِ ’’وہ نبی آخر الزماں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی۔‘‘(1)
تو امیر ِمعاویہ کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے، مگر کس کی! محمد رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی)، وَغَیْرُھُمْ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْن کو خارج کر دیا(2) اور تمہارے کان میں (اللّٰہ کے رسول نے چپ چاپ) کہہ دیا کہ ’’اَصْحَابِیْ‘‘(3) سے ہماری مراد، اور آیت میں ضمیر ’’ھُمْ‘‘(4) کے مِصْدَاق ان لوگوں کے سِوا (اور دوسرے صحابہ) ہیں جو تم ان کے اے خوارج (اور اے رَوَافض) دشمن ہوگئے اور عِیَاذًا بِاللّٰہِ(5) (انہیں ) لعن طعن سے یاد کرنے لگے (اور شومئیِ بخت(6) سے)، نہ یہ جانا
________________________________
1 - مستدرک حاکم ، ومن کتاب آیات رسول اللّٰہ الخ،اسلام ام ابی ہریرۃ الخ،۳ / ۵۲۶ ، حدیث:۴۳۰۰،دلائل النبوۃ،باب استبراء زید بن سعنۃ۔۔۔الخ، ۶ / ۲۸۱۔
2 - یعنی اے شیعو! اے رافضیو! کیا اللّٰہ نے اپنے فرمان: ’’رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہٗ ‘‘’’اللّٰہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللّٰہ سے۔‘‘ اور اس کے رسول نے اپنے فرمان: ’’ اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِیْ اَصْحَابِیْ‘‘ ’’میرے صحابہ کے بارے میں اللّٰہ سے ڈرو۔‘‘ سے چاروں خلفاء ِراشدین اور عائشہ صدیقہ، اور حضرتِ طلحہ وزبیر ومعاویہ اور دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو خارج کر دیا؟ (اللّٰہ تعالٰی ان سب سے قیامت کے دن تک راضی ہوا)۔
3 - میرے صحابہ۔
4 - یعنی آیت ’’ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ‘‘ میں ’’ھُمْ‘‘ ضمیر۔
5 - اللّٰہ کی پناہ۔
6 - بد قسمتی۔