(طَیِّبَہ، طاہِرہ ،عَفِیْفَہ) (1) عائشہ صدیقہ بنتِ صدیق، وحضرات طَلْحہ و زبیر ومعاوِیہ (کہ اوّل کے بارے میں ارشاد وارِد کہ ’’اے طلحہ !یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں قیامت کے ہَولوں (2)میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔‘‘ اور ثانی کے باب میں ارشاد فرمایا: ’’ یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ میں روزِ قیامت تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ تمہارے چہرہ سے جہنم کی اُڑتی چنگاریاں دور کردوں گا۔‘‘(3) امام جلال الدین سیوطی ’’جمعُ الجوامع‘‘ میں فرماتے ہیں :’’سَنَدُہٗ صَحِیْحٌ۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔‘‘(4)اور حضرت امیر معاویہ تو اوّل مُلُوکِ اسلام(اور سلطنتِ محمدیہ کے پہلے
________________________________
1 - پاک، پرہیزگار، پاک دامن۔
2 - ہولناکیوں ۔
3 - تاریخ ابن عساکر،۱۸/۳۹۳،۳۹۴،کنزالعمال،کتاب الفضائل،جامع العشرۃ المبشرۃ،۱۳/ ۱۰۷،حدیث : ۳۶۷۳۲ ۔
4 - جمع الجوامع ،مسند عمر بن الخطاب، ۱۱ / ۳۱۸ ، حدیث : ۱۵۲۸۔
5 - اسلام کے پہلے بادشاہ۔