جناب اُمُّ المومنین محبوبۂ سیِّد الْعَالَمِیْن(1)
________________________________
1 - تمام مؤمنین کی ماں اور دونوں جہاں کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کی محبوبہ یعنی زوجہ محترمہ۔
سُبْحَانَ اللّٰہ! حضرت سیدتنا عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی محبوبہ ہیں جیسا کہ حضرت عمر بن غَالِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بارے میں بدگوئی کی تو فرمایا: (اَغْرِبْ مَقْبُوْحًا مَنْبُوْحًا اَتُؤْذِیْ حَبِیْبَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) یعنی ذلیل وخوار خاموش ہو تو اللّٰہ کے رسول کی ’’محبوبہ‘‘ کی بدگوئی کرتا ہے۔ (ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل عائشہرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، ۵/۴۷۲، حدیث: ۳۹۱۴) اسی طرح حضرت مسروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جو اَکابر تابعین میں سے ہیں جب حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے تو یوں فرماتے: (حَدَّثَتْنِی الصِّدِّیْقَۃُ بِنْتُ الصِّدِّیْقِ حَبِیْبَۃُ حَبِیْبِ اللّٰہِ) ’’حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر، محبوبۂ محبوبِ خدا (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا) نے مجھ سے حدیث بیان کی۔‘‘(مسند احمد،مسند السیدۃ عائشۃ،۱۰/۸۵،حدیث:۲۶۱۰۳)