حضرت مُجَہِّزُ جَیْشِ الْعُسْرَۃ (فِیْ رِضَیِ الرَّحْمٰن عثمان بن عفَّان) (1) و
________________________________
1 - بڑے مہربان، زبردست رحمت والے (اللّٰہتعالیٰ) کی خوشنودی میں تنگ دستی والے لشکر کو سامانِ ضرورت دینے والے عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ ترمذی شریف کی حدیث ِمبارکہ ہے حضرت سیدنا عبد الرحمن بن خباب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم جَیْشُ الْعُسْرۃ (غزوۂ تبوک ) پر رغبت دے رہے تھے تو حضرت سیدنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھڑے ہوکر عرض کی: یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم! میرے ذمہ اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں سو اونٹ ان کے کمبل اور پالان کے ساتھ، حضور صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسَلَّم نے اس لشکر کے متعلق پھر رغبت دی پھر حضرت سیدنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھڑے ہوکر عرض کی: میرے ذمہ دو سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل کے اور پالان کے، حضور صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم نے پھر رغبت دلائی پھر تیسری مرتبہ بھی حضرت سیدنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھڑے ہوکر عرض کی: میرے ذمہ اللّٰہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل وپالان کے، تو میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسَلَّم کو دیکھا کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسَلَّممنبر سے اُتر رہے ہیں اورفرمارہے ہیں کہ اب اس کے بعد عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کریں ، اس کے بعد عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کریں ۔ (ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب عثمان بن عفان،۵/۳۹۱، حدیث:۳۷۲۰)
صاحب ’’مرآۃ ‘‘ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’غزوۂ عُسْرَت غزوۂ تبوک کا نام ہے اور اس غزوہ میں جانے والوں کو جیشِ عسرت کہتے ہیں کیونکہ یہ غزوہ مسلمانوں کی سخت تنگی، ناداری، بے سامانی کی حالت میں ہوا، گرمی سخت تھی، تبوک جگہ بہت دور تھی چنانچہ خیبر مدینہ منورہ سے ایک سو ساٹھ میل ہے اور خیبر سے تبوک پانچ سو میل ہے تو تبوک مدینہ منور سے چھ سو ساٹھ میل ہوا ، وہاں سے عمان ، وہاں سے بیت المقدس، یہ سب ایک ہی راستہ پر ہیں ، حضورِ انور نے لوگوں کو جہاد کے لیے چندہ دینے کا حکم دیا، اس غزوہ میں لشکر ِاسلام بہت بڑا تھا ، (مرقات) تبوک میں چالیس ہزار اور ستر ہزار کے درمیان تھے۔ (مدارج) حضورِ انورصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّمنے تین بار چندہ کی اپیل کی، ہربار میں حضرت عثمان نے سو دو سو تین سو اونٹ مع سامان کے اعلان کیا، کسی کو بولنے کا موقعہ ہی نہ دیا، چھ سو اونٹ مع سامان کا بھی اعلان کیا اور ایک ہزار اشرفیوں کا بھی جیسا کہ دوسری روایات میں آ رہا ہے ، پھر یہ تو اعلان تھا مگر حاضر کرنے کے وقت نو سو پچاس اونٹ ، پچاس گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں پیش کیں پھر بعد میں دس ہزار اشرفیاں اور پیش کیں (مرقات)، تو حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: عثمان اب اس کے بعد جو کام بھی کریں اِنہیں مضر (یعنی نقصان دہ) نہ ہوگا، اس فرمان عالی کا منشا یہ نہیں کہ حضرت عثمان کو گناہوں کی اجازت دے دی، بلکہ یہ ایسا ہے جیسے پرندے کے پر کاٹ کر اس سے کہا جاوے کہ جا اڑ تا پھر ، اب اُڑے کس طرح، یوں ہی حضور ِ انور نے ان کے دل پر اپنا ہاتھ رکھ لیا ، اب عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دل میں گناہ کرنے کا خیال بھی کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔‘‘( مراٰۃ المناجیح، ۸/۳۹۴ ملخصًا)