Brailvi Books

دس عقیدے
75 - 193
 اس اِسْتِثْنَاء کو تمہارے کان میں   پھونک دیا ہے؟)۔
	یا اے شِیْعو، اے رافِضِیو! اِن احکامِ شاملہ سے (کہ سب صحابہ کو شامل ہیں   اور جملہ صحابہ کرام ان میں   داخل ہیں  )  خدا ورسول (جَلَّ وَعَلَا وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) نے (امیر المومنین خَلِیْفَۃُ الْمُسْلِمِیْن) (1) حضرت صدِّیقِ اکبر، (وامیر المؤمنین  اِمَامُ الْمُسْلِمِیْن) (2) جناب فاروقِ اَعظم، (و امیر المومنین کَامِلُ الْحَیَاءِ وَ الْاِیْمَان)(3)



________________________________
1 -    مسلمانوں   کے خلیفہ۔
2 -    مسلمانوں   کے پیشوا اور سردار۔
3 -    ایمان اورحیا میں   کامل۔یہ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا لقب ہے ، اور انھیں   ’’کَامِلُ الْحَیَاءِ وَالاِیْمَان‘‘ اس لیے کہتے ہیں   کہ آپ سب سے زیادہ شرم وحیا کے پیکر تھے جیسا کہ حدیث ِ مبارکہ میں   ہے حضرت سیدتنا عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں  : رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم اپنے گھر میں   یوں   آرام فرما تھے کہ آپ کے پیروں   سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، تو حضرت سیدنا ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اجازت مانگی انہیں   اجازت دے دی اسی حالت پر انہوں   نے کچھ بات چیت کی، پھر حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اجازت مانگی انہیں   بھی اسی حالت میں   اجازت دے دی، پھر انہوں   نے بھی بات چیت کی، پھر حضرت سیدنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اجازت مانگی تو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّمبیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے ، جب وہ چلے گئے تو حضرتِ سیدتنا عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے عرض کی: حضرت سیدنا ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آئے آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی، پھر حضرت سیدنا عمر آگئے تو آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی نہ پروا کی، پھر حضرت سیدنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آئے پھر تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے، تو فرمایا: ((اَلَا اَسْتَحِی مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِی مِنْہُ الْمَلَا ئِکَۃُ)) میں   اس شخص سے حیا کیوں   نہ کرو ں   جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں  ۔(مشکاۃالمصابیح، کتاب المناقب،باب مناقب عثمان، الفصل الاول،۲/۴۲۳،حدیث:۶۰۶۹)
حَکِیْمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث ِمبارکہ کے تحت ’’مرآۃ المناجیح‘‘ میں   فرماتے ہیں  :’’سبھی فرشتے بھی حضرت (سیدنا) عثمان سے شرم کرتے ہیں   ان کی توقیر و تعظیم کا اہتمام فرماتے ہیں   ، ایک روایت میں   ہے کہ جب حضورصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَ الہٖ وسَلَّم نے انصار ومہاجرین میں   بھائی چارہ کا عقد فرمایا تو حضرت (سیدنا) عثمان بھی وہاں   موجود تھے ان کے سینے سے کرتہ ہٹ گیا تو وہاں   کے موجود فرشتے اس مجلس سے ہٹ گئے، حضورِ انور نے ملائکہ سے ہٹنے کی وجہ پوچھی انہوں   نے کہا: حضرت (سیدنا) عثمان سے ہم کو شرم آتی ہے۔ حضرت عثمان کی شرم وحیا کا یہ حال تھا کہ آپ غسل خانہ میں   تہبند باندھ کر غسل کرتے تھے صرف اوپر کا بدن برہنہ ہوتا تھا تب بھی آپ سیدھے نہ بیٹھتے تھے شرم سے جھکے ہوئے ہی غسل فرماتے تھے۔(مرقات) آپ نے کبھی اپنی شرم گاہ کو نہ دیکھا ۔ ایک روایت میں   ہے کہ میں   نے اپنے ربّ سے دعا کی کہ مولیٰ! میرا عثمان بڑا ہی شرمیلہ ہے تو کل قیامت میں   اس کا حساب نہ لینا کہ وہ شرم وحیا کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑے ہو کر حساب نہ دے سکے گا چنانچہ پہلے حساب ابوبکر کا ہوگا، پھر عمر کا ، پھر علی کا ،پھر دوسروں   کا، حضرت عثمان کا حساب ہوگا ہی نہیں  ۔‘‘(مرقات)  (مراٰۃ المناجیح، ۸/ ۳۹۳)