زِندانِ عذاب وبلا(1) میں ڈال دے)۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِی(2) وَغَیْرُہٗ۔(3)
اب اے خارجیو،(4) ناصبیو! (5) (حضرت خَتَنَیْن وَ اِمَامَیْن جَلِیْلَیْن سے (6) خصوصاً اپنے سینوں میں بغض و کینہ(7) رکھنے اور اُنہیں چُنِیْں و چُنَاں (8) کہنے والو!) کیا رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے (مذکور ہ ٔبالا) اس ارشادِ عام(9) اور جناب ِبارِی تعالیٰ نے آیۃ کریمہ: { رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ-}(10)سے (کہ اللّٰہ تعالیٰ ان سے یعنی ان کی اطاعت و اخلاص سے راضی اور وہ اس سے یعنی اس کے کرم و عطا سے راضی) جناب ذُوالنُّوْرَیْن (امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی) (11) و حضرت
________________________________
1 - آفت ومصیبت کے قید خانے یعنی دوزخ۔
2 - ترمذی، کتاب المناقب،باب فی من سب اصحاب النبی، ۵/۴۶۳، حدیث: ۳۸۸۸ ۔
3 - مسند احمد ،مسند البصریین،۷/۳۴۱، حدیث:۲۰۵۷۲۔
4 - امام برحق کے خلاف بغاوت کرنے والا ’’خارجی‘‘ ہے، بعد میں یہ ان لوگوں کا لقب بن گیاجنہوں نے حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے بغاوت کر کے آپ کی شان میں گستاخیاں کیں ۔
5 - اور اے وہ لوگو! جو حضرتِ علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ان کی اولاد سے بغض وعداوت رکھتے ہو۔
6 - دونوں دامادوں اور مسلمانوں کے عظیم الشان خلفاء یعنی حضرت عثمان، حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے۔
7 - دشمنی وعداوت۔
8 - یعنی ان پر اعتراض کرنے والو!۔
9 - ماقبل ذکر کی گئی حدیث ِ مبارکہ۔
10 - پ۱۱، التوبۃ : ۰۰ا۔
11 - ذوالنورین: دو نور والے، یہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا لقب ہے کیونکہ رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کی دو بیٹیاں یک بعد دیگرے یعنی (ایک کے انتقال کے بعدایک) اُن کے نکاح میں آئیں جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کی بارگاہ میں حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر کیا گیا تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَ الہٖ وسَلَّم نے ارشاد فرمایا: وہ نور ہے، عرض کیا گیا: کیسا نورہے؟ ارشاد فرمایا:وہ آسمان اور جنتوں کا نور ہے، اُس نور کو جنتی حوروں پر فضیلت دی گئی ہے اور بے شک میں نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی اس سے کی ہے پس اسی وجہ سے اللّٰہ تَعَالیٰ نے فرشتوں کے مجمع میں اس کا نام’’ نور والا‘‘ رکھا ہے، اور جنتوں میں بھی اس کو ’’ذوالنورین یعنی دو نور والا‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ (تاریخ ابن عساکر،۳۹/۴۷) ایک اور حدیث ِمبارکہ میں ہے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّمکا گزر حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر ہوا اس حال میں کہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ( اپنی زوجہ) اور رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کی بیٹی اُمّ کلثوم کے وصال پر رورہے تھے، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کے ساتھ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیدناعمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی تھے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے عثمان! کیوں رورہے ہو؟ عرض کیا: اے اللّٰہ کے رسول !میں اس وجہ سے رورہا ہوں کہ میرا آپ سے دامادی کا رشتہ ختم ہوگیا، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّمنے فرمایا: تو مت رو، اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر میری سو بیٹیاں بھی ہوتیں اور ایک کے بعد ایک انتقال کر جاتی تو میں ہر ایک کے بعد دوسری کا تجھ سے نکاح کردیتا یہاں تک کہ سو میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی، یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنی دوسری بیٹی ’’رُقَیَّہ‘‘ کا نکاح بھی تم سے کردوں اور اس کا مَہْر بھی وہی رکھوں جو مَہْر اس کی بہن کلثوم کا تھا۔(تاریخ ابن عساکر،۳۹/۳۹)