پر حَرْف رکھتا ہے، (1) (جو انہیں بارگاہِ صَمَدِیَّت (2)میں حاصل ہیں ، تو یہ مولائے قُدُّوس تَعَالٰی شَاْنُہٗ کی بارگاہ میں (3) یا اس کے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی جنابِ پاک میں گستاخانہ زبان درازی و دَرِیدَہ دَ ہنی ہے (4)اور کھلی بغاوت)، (5) اسی لیے سرورِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَارشاد فرماتے ہیں :
(اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِیْ اَصْحَابِیْ، لَا تَتَّخِذُوْھُمْ غَرَضًا مِّنْ بَعْدِیْ، فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّیْ اَحَبَّھُمْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ، وَمَنْ اٰذَا ھُمْ فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہَ وَمَنْ اٰذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ اَنْ یَّاْخُذَہٗ) ’’خدا سے ڈرو خدا سے ڈرو میرے اَصحاب کے حق میں ، اُنہیں نشانہ نہ بنا لینا، میرے بعد جو اُنہیں دوست رکھتا ہے میری محبت سے اُنہیں دوست رکھتا ہے، اور جو اُن کا دشمن ہے میری عداوت سے ان کا دشمن ہے، جس نے اُنہیں ایذا دی (6) اُس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللّٰہ کو ایذا دی، اور جس نے اللّٰہکو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللّٰہ تَعَالٰی اِس کو گرفتار کرلے، (یعنی
________________________________
1 - صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر نکتہ چینی کرنے والا یا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی کامل و اَکمل حکمت و قدرت پر کمی و کوتاہی کا الزام لگاتا ہے یا پھر رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظمت پر اعتراض کرتا ہے۔
2 - بے نیاز دربار یعنی اللّٰہ تَعَالٰی کے دربار۔
3 - ہر نقص وعیب سے پاک، بلندوبالا شان والے اللّٰہ تَعَالٰیکی بارگاہ میں ۔
4 - بدزبانی وبدکلامی ہے۔
5 - سرکشی ونافرمانی۔
6 - تکلیف دی۔