Brailvi Books

دس عقیدے
70 - 193
میں  ) (1) داخل کہ صحابی ہر وہ مسلمان ہے جو حالتِ اسلام میں   اس چہرۂ خدا نُما (اور اس ذاتِ حق رَسا) (2)کی زیارت سے مُشَرَّف ہوااو راسلام ہی پر دنیا سے گیا، (مرد ہو خَواہ عورت، بالغ ہو خواہ نابالغ)۔
	 ان  (اعلیٰ درجات والا مقامات) (3) کی قدْر و منزِلت(4) وہی خوب جانتا ہے جو سیِّد المُرسَلِینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی عزت و رِفعت(5)سے آگاہ ہے، (اُس کا سینہ انوارِ عرفان سے منوَّر(6) اور آنکھیں   جمالِ حق سے مشرف ہیں  ،(7) حق پر چلتا، حق پر جیتا اور حق کے لیے مرتاہے اور قبولِ حق اس کا وَطِیْرَہ ہے)۔ (8)
	آفتابِ نیمروز (دو پَہرکے چڑھتے سورج)سے روشن تَر کہ محب(سچا چاہنے والا) جب قدرت پاتا ہے اپنے محبوب کو صحبتِ بَد (برے ہم نشینوں   اوربدکار رفیقوں  ) سے بچاتا ہے، (اور مسلمانوں   کا بچہ بچہ جانتا مانتا ہے کہ) حق تعالیٰ قادِرِ مُطْلَق (اور ہر ممکن اس کے تحتِ قدرت ہے)اور(یہ کہ) رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَاس کے محبوب و سَیِّدُالمَحْبُوبِیْن (تمام محبوبانِ بارگاہ کے سردار و سر کے تاج)، کیا عقلِ سلیم



________________________________
1 -    یعنی جماعتِ صحابہ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں  ۔
2 -    اللّٰہ تَعَالٰی کے بارے میں   بتانے والے کے چہرے اور حق تک پہنچنے والی ذات (سرکار صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم)
3 -    ان صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بلند مرتبوں   اونچے درجوں   ۔
4 -    شان وشوکت۔                  
5 -    عظمت۔
6 -    اللّٰہ تَعَالٰی کی معرفت کی تجلّیوں   سے روشن۔
7 -    اور آنکھیں   مشاہداتِ حق سے مشرف ہیں  ۔
8 -    یعنی طریقہ ہے۔