اور اس دو جہاں کی آقا زادی(1) کے دونوں شہزادے، عرشِ (اعظم)کی آنکھ کے دونوں تارے ، چرخِ سِیادت (آسمانِ کرامت) کے مَہ پارے،(2) باغِ تَطْہِیر(3) کے پیارے پھول،(4) دونوں قرۃُ عَینِ رسول،(5) اِمَامَیْن کَرِیمَین (ہادیانِ باکرامت وَباصفا)، (6) سَعِیدَین شَہِیدَین (نیک بخت و شہیدانِ جفا) (7) تَقِیَّیْن نَقِیَّیْن (پاک دامن، پاک باطن) نَیِّرَیْن(قَمَرَیْن، آفتابِ رُخ و ماہتابِ رُو) (8) طاہِرَین (پاک سیرت ، پاکیزہ خُو) (9) ابو محمد (حضرت امام ) حسن و ابو عبداللّٰہ (حضرت امام ) حسین،اورتمام مادَرانِ اُمت،بانْوَانِ رسالت(اُمَّہاتُ المومنین،(10) ازواجِ مطہرات) عَلَی الْمُصْطَفٰی وَعَلَیْہِمْ کُلُّہُمُ الصَّلَاۃُ وَالتَّحِیَّۃُ(11) (ان صحابہ کرام کے زُمْرَہ
________________________________
1 - شہزادی فاطمہ زہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔
2 - چاند ۔
3 - یہاں حضور صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کے پاکیزہ گھرانے کی طرف اشارہ ہے یعنی باغ رسالت۔
4 - نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ((ہُمَا رَیْحَانَتَایَ مِنْ الدُّنْیَا)) یہ دونوں (یعنی امام حسن و حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔(بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب الحسن والحسین،۲/۵۴۷،حدیث:۳۷۵۳)
5 - رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کی آنکھوں کی ٹھنڈک۔
6 - معزز اور صاف دل پیشوا۔
7 - ظلماً شہید کئے جانے والے۔
8 - سورج اور چاند کی طرح چمکتے دمکتے چہرے والے۔
9 - نیک عادتوں اورعمدہ خصلتوں والے۔
10 - مسلمانوں کی مائیں ۔
11 - مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم اور ان سب پر دُرود وسلام ہو۔