بانوے جہاں ، سَیِّدَۃُ النِّسَاء(1) فا طِمَہ(2) زَہرا(3) (شامل)۔
________________________________
1 - تمام عورتوں کی سردار یعنی دونوں جہاں کی ملکہ وشہزادی یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا لقب ہےچنانچہ ایک مرتبہ رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم نے حضرت سیدتنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: ((اَمَا تَرْضَیْنَ اَنْ تَکُوْنِیْ سَیِّدَۃَ نِسَاءِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ اَوْنِسَاءِ الْمُؤْمِنِیْنَ)) یعنی ’’(اے فاطمہ!) کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم اہل جنت کی عورتوں یا مؤمنین کی عورتوں کی سردار ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب المنا قب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲/۵۰۷، حدیث:۳۶۲۴) ایک جگہ ارشاد فرمایا: ((فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَاء اَہْلِ الْجَنَّۃِ)) ’’فاطمہ اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہے۔‘‘
(بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب قرابۃ رسول اللّٰہ،۲/۵۳۷)
2 - فاطمہ کے معنی ہیں چھڑانے والی ، اللّٰہ تعالیٰ اس نام کے صدقے لوگوں کو دوزخ سے آزاد فرمائے گا جیسا کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ((اِنَّمَا سُمِّیَتْ فَاطِمَۃَ لاَِنَّ اللّٰہَ فَطَمَہَا وَمُحِبِّیْہَا عَنِ النَّارِ)) ترجمہ: بے شک اس کا نام ’’فاطمہ‘‘ رکھا گیا اس لیے کہ اللّٰہ تعالیٰ اسے اور اس سے محبت کرنے والوں کو دوزخ سے آزاد فرمائے گا۔ (کنز العمال، کتاب الفضائل،الفصل الثانی فی فضائل اہل البیت۔۔۔الخ، الجزء:۱۲،۶/۵۰،حدیث: ۳۴۲۲۲) امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے رسالے ’’الامن والعلی‘‘ ص۲۸۳ پر اس حدیث کو نقل کرنے کے بعدارشاد فرماتے ہیں : ’’غلامانِ زَہرا کو نار سے چھڑایا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے، مگر نام حضرت زہرا کا ہے فاطمہ چھڑانے والی آتشِ جہنم سے نجات دینے والی۔‘‘
3 - حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ’’زہرا‘‘ بھی کہتے ہیں یعنی ’’کلی‘‘، جس کی کئی وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کے جسم سے جنت کی خوشبو آتی تھی جسے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سونگھا کرتے تھے۔ (مرآۃ المناجیح، ۸/۴۵۳)نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم نے فرمایا: ((اِذَا اَنَا اِشْتَقْتُ اِلٰی رَائِحَۃِ الْجَنَّۃِ شَمَّمْتُ رِیْحَ فَاطِمَۃَ)) جب بھی میں جنت کی خوشبو سونگھنا چاہتا ہوں تو فاطمہ کی خوشبو سونگھ لیتا ہوں ۔(معجم کبیر، ومن مناقب فاطمۃ، ۲۲/۴۰۰،حدیث:۱۰۰۰واللفظ لہ،مستدرک حاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ، کان النبی اذا رجع۔۔۔الخ،۴/۱۴۰،حدیث:۴۷۹۱)