عقیدۂ خامسہ(۵) :
اصحاب سیّدالمرسلین و اہلِ بیت کرام
ان (ملائکہ مرسلین و ساداتِ فِرِشْتِگانِ مُقَرَّبِیْن)کے بعد(بڑی عزت و منزلت اور قُربِ قبولِ اَحَدِیَّت پر فائز) اَصحابِ سَیِّدُ المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ہیں(1)
اور اُنہیں میں حضرت بَتُوْل،(2) جگر پارۂ رسول(3) ، خاتونِ جہاں ،
________________________________
1 - پانچواں عقیدہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ اور بزرگ وبرتر اہل بیت کے بارے میں ۔
2 - مقرب ترین فرشتوں اور مرسلین ملائکہ یعنی جبرئیل ومیکائیل واسرافیل وعزرائیلعَلَیْہِمُ السَّلَاماور عرشِ مُعلّٰی کو اُٹھانے والے فرشتوں کے بعد اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کی بارگاہ میں مقبولیت کے مرتبے پر چمکنے والے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرّضْوَان ہیں ۔
3 - بتول کہتے ہیں پاکیزہ، پاک دامن ، پارسا عورت کو، یہ حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا لقب ہے اس لیے کہ آپ عوارضِ نِسوانی یعنی حیض ونفاس سے پاک تھیں جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں سرکارصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’بے شک میری صاحبزادی بتول زہرا انسانی شکل میں حوروں کی طرح حیض ونفاس سے پاک ہے۔‘‘(کنزالعمال، کتاب الفضائل،الفصل الثانی فی فضائل اہل البیت۔۔۔الخ،الجزء:۱۲،۶/۵۰،حدیث:۳۴۲۲۱)
4 - رسول صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کے جگر کا ٹکڑا، یعنی حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا جیسا کہ حدیث ِمبارکہ میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَالہٖ وسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ((فَاطِمَۃُ بِضْعَۃٌ مِّنِّیْ)) ’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب قرابۃ رسول اللّٰہ،۲/ ۵۳۸، حدیث: ۳۷۱۴)