حضور کے لشکر کا ایک سپاہی بن کر شامل ہونا مشہور زبانِ زدِ خاص و عام۔)(1)
اَکَابِر صحابہ و اَعَاظِم اَولیاء کو (کہ واسطۂ نُزولِ بَرَکات ہیں ) اگر ان کی خدمت (کی دَولت )ملے دو جہاں کی فخر و سعادت جانیں ، پھر یہ کس کے خدمت گار یا غَاشِیَہ بَردَار ہوں گے؟(2) (اور سَیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تو بادشاہ کون و مکاں ، مخدوم و مُطَاع ہر دو جہاں ہیں ، صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ) (3)
________________________________
1 - فرشتہ ٔ جبریل عزت واحترام والی وہ ذات ہیں جو صرف اور صرف سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کرنے والے ہیں ، تمام مخلوقات میں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علاوہ کوئی ایسی ذات نہیں کہ جس کی فرشتۂ جبریل نے خدمت اور اطاعت کی ہو، ہاں البتہ جنگِ بدر میں فرشتوں کے ایک لشکر کے ساتھ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کے لشکر میں ایک سپاہی بن کر شامل ہونا عوام و خواص کی زبان پر مشہور ہے، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جنگِ بدر کے دِن فرمایا: یہ جبرائیل ہیں جنہوں نے اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑ ا ہوا ہے اور اِن پر جنگی ہتھیار ہیں ۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرًا، ۳/ ۱۷، حدیث: ۳۹۹۵)
2 - معززصحابہ اور جاہ وجلال صاحبِ عظمت اولیاء کہ یہ خود بھی برکتوں کے نازل ہونے کا ذریعہ ہیں ،انہیں اگر جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامُ کی خدمت کی دولت ملے تو اِسے اپنے لیے دنیا اور آخرت کی برتری اورخوش قسمتی جانیں ، جب جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامُ کے مقام ومرتبے کا یہ عالَم ہے کہ بڑے بڑے صحابہ واَولیاء خوداِن کی خدمت کو اپنے لیے سعادت مندی سمجھیں تو پھر بھلا یہ کس کی خدمت یا اطاعت وفرمانبرداری کریں گے۔
3 - ہاں رہی بات سَیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت وفرمانبرداری کی ، تو وہ تو عالَم کےخود مختار حاکم، دنیا اور آخرت کے مالک وسردار ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ کی اِن پر اور اُن سب پر دُرود و سلام اور برکتیں ہوں ۔