وہی ہیں جنہیں حق تَبَارَک و تعالیٰ رسولِ کریم مکینِ اَمین فرماتا ہے: (1) (کہ وہ عزت والے، مالک ِعرش کے حضور بڑی عزت والے ہیں ، ملاء ِاعلی کے مُقْتَدَاء(2) کہ تمام ملائکہ ان کے اِطاعت گزار و فرماں بردار، وحیِ الٰہی کے امانت دار کہ ان کی امانت میں کسی کو مجال حرفِ زَن(3) نہیں ، پیام رَسانی ٔ وحی میں اِمکان نہ سَہْو کا نہ کسی غَلَط فَہْمی و غَلَطی کا، اور نہ کسی سَہْل پسندی اورغفلت کا،(4)منصبِ رِسالت کے پوری طرح مُتَحَمِّل،(5) اَسرار و اَنوار کے ہر طرح مُحَافِظ،(6) فَرِشْتوں میں سب سے اونچا ان کا مرتبہ و مقام، اور قربِ قبول پر فائز المَرام،(7) وہ صاحبِ عزت و احترام کہ) نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سوا دوسرے کے خادم نہیں (اور تمام مخلوقات میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے عِلاوہ کوئی اور ان کا مَخْدوم و مُطاع نہیں (8) اور جنگِ بدر میں فَرِشتوں کی ایک جَمْعِیَّت کے ساتھ
________________________________
1 - اس میں قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی اس آیت ِمبارَکہ کی طرف اشارہ ہے:
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ(۱۹)ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ(۲۰)مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ(۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک یہ عزت والے رسول کا پڑھنا ہے جو قوت والا ہے ،مالک عرش کے حضور عزت والا، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے ، امانت دار ہے۔
(پ۳۰، التکویر: ۱۹۔۲۱)
2 - فرشتوں کی جماعت کے پیشوا ورَہنما۔
3 - زبان کھولنے کی اجازت۔
4 - وحی کا پیغام پہنچانے میں نہ کسی بھول چوک اور خطا کا امکان اور نہ کسی آسان پسندی وبے پرواہی کا۔
5 - پیام لیجانے اور پہنچانے کے عُہدے کو مکمل طور پر بجالانے والے۔
6 - راز کی باتوں اور تجلّیوں کے پوری طرح نگہبانی کرنے والے۔
7 - قبولیت کے مرتبے کو پالینے والے۔
8 - جس کی خدمت واطاعت کی جائے۔