Brailvi Books

دس عقیدے
64 - 193
	 قَالَ تَعَالٰی: { عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ(۵)}(1)  (’’سکھایا اِن کو یعنی سَیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکو سخت قوّتوں   والے طاقتور نے‘‘، یعنی جبرائیل  عَلَیْہِ السَّلَامُ نے، جو قوّت و اجلالِ خداوندی کے مَظْہرِ اَتَمْ، (2)   قوتِ جسمانی وعقل و نظر کے اعتبار سے کامل، وَحْی الٰہی کے بار کے مُتَحَمِّل،(3)  چشمِ زَدَن میں  (4)  سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی تک پہنچ جانے والے، جن کی دَانِشْمندی(5) اور فِراست ِاِیمانی(6) کا یہ عالَم کہ تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَام کی بارگاہوں   میں   وحی اِلٰہی لے کر نُزُوْلِ اِجلال  فرماتے اور پوری دیانتداری سے اس امانت کو ادا کرتے رہے)، پھر وہ(7)    کسی کے شاگرد کیا ہوں   گے جسے اِن(8)  کا استاذ بنائیے، اسے سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  کا اُسْتَاذُ الْاُسْتَاذ ٹھہرائیے، یہ



________________________________
=نے شام کی طرف سفر کے دوران سُن لیا ہے ، تو اللّٰہ تَعَالٰینے فرمایا کہ انھیں   لوگوں   میں   سے کسی نے نہیں   سکھایا ان کا مُعَلِّم یعنی استاد تو ’’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘‘ ہے۔۔۔الخ۔ اسی لیے امام احمد رضا عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے جو کہا ہے وہ حقِ ثابت ہے، اور اللّٰہ  بہتر جانتا ہے۔ (ت) یہ حاشیہ حضرت علامہ خلیل خان برکاتی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہے۔
1 -    پ۲۷، النجم:۵۔
2 -    اللّٰہ تَعَالٰی کی شان و شوکت ، بزرگی اور طاقت و سلطنت کے مظہر(جلوہ گاہ ) ہیں  ۔
3 -    وحی ٔ الٰہی کے بوجھ کو اُٹھانے والے۔
4 -    پلک جھپکتے میں  ، فوراً۔
5 -    دانائی۔
6 -    ایمانی صلاحیت ۔
7 -    جبرئیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔
8 -    یعنی جبرئیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔