Brailvi Books

دس عقیدے
63 - 193
بارگاہوں(1) میں   گستاخی کا ہے کہ کُفْرِ قَطْعِی ہے۔(2) اِن ملائکہ مقربین میں   بالخصوص)  جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام مِنْ وَجْہٍ(3) رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے استاذ ہیں  ۔(4)



________________________________
1 -    بلند وبالا حمایت والے درباروں  ۔
2 -    اِن مقرب و معزز فرشتوں   کی جناب میں   گستاخی کرنا بھی اِیسا ہی کفر ِقطعی ہے جیسا کہ انبیاء و مُرْسَلِیْن عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی جناب میں   گستاخی کرنا چنانچہ تمہید ابی شکور میں   ابو شکور سالمی حنفی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ  فرماتے ہیں  : جس نے فرشتے کو گالی دی یا اس سے نفرت کا اظہار کیا تو بے شک وہ کافر ہوجائے گا جیسا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کو گالی دینے والا یا ان سے نفرت کا اظہار کرنے والا کافر ہوجاتا ہے، اور جس نے انبیاء یا فرشتے کا ذکر حقارت یعنی ذلّت کے ساتھ کیا تو وہ بھی کافر ہوجائے گا۔(تمہید ابی شکور السالمی،الباب الثامن فی شرائط الایمان،ص ۱۱۲)اسی طرح فتاویٰ عالمگیری میں   ہے: جس نے فرشتوں   میں   سے کسی ایک فرشتے کو بھی عیب لگایایا اس کی بُرائی اور مذمت کی تو اس نے کفر کیا۔(عالمگیری،کتاب الایمان،فصل فی قبض الثمن،۲/۲۶۶)
3 -    ایک لحاظ سے، ایک صورت میں  ۔
4 -    قَالَ الْاِمَامُ الْفَخْرُ الرَّازِیْ(۱): وَقَوْلُہٗ: ’’ شَدِیْدُ الْقُوٰى‘‘: فِیْہِ فَوَائِدٌ، اَلْاُوْلٰی: اِنَّ مَدْحَ الْمُعَلِّمِ مَدْحُ الْمُتَعَلِّمِ، فَلَوْ قَالَ: عَلَّمَہُ جِبْرَائِیْلُ وَلَمْ یَصِفْہٗ مَا کَانَ یَحْصُلُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہٖ فَضِیْلَۃٌ ظَاھِرَۃٌ، اَلثَّانِیَۃُ: ھِيَ اَنَّ فِیْہِ رَدًّا عَلَیْھِمْ حَیْثُ قَالُوْا: اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ سَمِعَھَا وَقْتَ سَفَرِہٖ اِلَی الشَّامِ، فَقَالَ: لَمْ یَعْلَمْہُ اَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ بَلْ مُعَلِّمُہٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی...اِلَخْ، وَلِہٰذَا قَالَ الْاِمَامُ اَحْمَدُ رَضَا مَا قَالَ وَھُوَ حَقٌّ ثَابِتٌ، وَاللّٰہُ اَعْلَمْ۔ (العبد محمد خلیل عُفِیَ عَنْہُ )۔ (التفسیر الکبیر، پ۲۷، النجم، تحت الاٰیۃ:۵، ۱۰/۲۳۷)
’’امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃنے فرمایا کہ اللّٰہ تَعَالٰی کے ارشاد: ’’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘‘ میں   کئی فائدے ہیں  ، پہلا فائدہ یہ ہے کہ استاد کی تعریف شاگرد کی تعریف ہوتی ہے، اگر اللّٰہ تَعَالٰی یوں   فرماتا کہ اس کو جبرائیل نے سکھایا ہے، اورحضرت جبرائیل کی صفت ’’ شَدِیْدُ الْقُوٰى ‘‘ نہ فرماتا تو اس سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو فضیلت ِ ظاہرہ حاصل نہ ہوتی، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں   ردّ ہے ان لوگوں   کا جنہوں   نے کہا: یہ پہلے لوگوں   کے قصّے ہیں   جن کو انہوں   =