Brailvi Books

دس عقیدے
62 - 193
 خدمت سِپُرد کی گئی ہے) (1) وحَمَلَۂ (یعنی حاملانِ )  عرشِ جلیل،(2)صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَ سَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ۔(3)اِن کے عُلُوِّ شان وَ رِفعتِ مکان (شوکت و عظمت اور عالی مرتبت) کو بھی کوئی ولی نہیں   پہنچتا  (خواہ کتنا ہی مقرّبِ بارگاہِ اَحْدِیَّت ہو)۔ (4) اور ان کی جناب میں   گستاخی کا بھی بِعَیْنِہٖ(5)وہی حکم، (جو انبیاء و مُرْسَلِیْن کی رِفعت پناہ 



________________________________
1 -    قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں   اللّٰہ  تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا(پ۳۰،النّٰزعٰت:۵)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر کام کی تدبیر کریں  ۔
تفسیر بغوی میں   اس آیت کے تحت ہے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : اس سے مراد وہ فرشتے ہیں   جن کے ذمے کچھ کا م سونپے گئے ہیں   اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ان کاموں   کو جانتا ہے،حضرت عبد الرحمن بن سَابِط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں  : دنیا میں   چار فرشتے معاملات انجام دیتے ہیں   ایک جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام، دوسرے میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام، تیسرے مَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَام، اور چوتھے اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں  ، جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام وحی لانے ، میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام بارش برسانے اور لوگوں   کو رزق مہیا کرنے، ملک الموت یعنی عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام لوگوں   کی روح قبض کرنے ، اور اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام صور پھونکنے پر مامور ہیں  ۔(تفسیربغوی، پ۳۰،النزعت،تحت الاٰیۃ:۵،۴/۴۱۱، شعب الایمان،۱/۱۷۷،حدیث:۱۵۸)
2 -    اللّٰہ  تعالیٰ کے عرش کو اُٹھانے والے فرشتے۔
3 -    اللّٰہ  تعالیٰ کا ان سب پر دُرود و سلام ہو۔
4 -    اور یہ مقرب فرشتے اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کی بارگاہ میں   بہت زیادہ عزت و عظمت ، شان و شوکت اور قدرو منزلت والے ہیں   کہ کوئی وَلی خواہ کتنا ہی مقرب و معظّم ہو وہ ہر گز ہر گز اِن بلند و بالا شان و شوکت والے فرشتوں   کو نہیں   پہنچ سکتاکیونکہ مرسلینِ ملائکہ بالاجماع تمام غیرِ انبیاء سے اَفضل ہیں   اِیسا ہی ’’فتاویٰ رضویہ، ج۲۹ ، ص ۶۲۹‘‘ پر ہے۔
5 -    بالکل۔