خدمت سِپُرد کی گئی ہے) (1) وحَمَلَۂ (یعنی حاملانِ ) عرشِ جلیل،(2)صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَ سَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ۔(3)اِن کے عُلُوِّ شان وَ رِفعتِ مکان (شوکت و عظمت اور عالی مرتبت) کو بھی کوئی ولی نہیں پہنچتا (خواہ کتنا ہی مقرّبِ بارگاہِ اَحْدِیَّت ہو)۔ (4) اور ان کی جناب میں گستاخی کا بھی بِعَیْنِہٖ(5)وہی حکم، (جو انبیاء و مُرْسَلِیْن کی رِفعت پناہ
________________________________
1 - قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللّٰہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا(پ۳۰،النّٰزعٰت:۵)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر کام کی تدبیر کریں ۔
تفسیر بغوی میں اس آیت کے تحت ہے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جن کے ذمے کچھ کا م سونپے گئے ہیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ان کاموں کو جانتا ہے،حضرت عبد الرحمن بن سَابِط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں : دنیا میں چار فرشتے معاملات انجام دیتے ہیں ایک جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام، دوسرے میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام، تیسرے مَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَام، اور چوتھے اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں ، جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام وحی لانے ، میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام بارش برسانے اور لوگوں کو رزق مہیا کرنے، ملک الموت یعنی عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام لوگوں کی روح قبض کرنے ، اور اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام صور پھونکنے پر مامور ہیں ۔(تفسیربغوی، پ۳۰،النزعت،تحت الاٰیۃ:۵،۴/۴۱۱، شعب الایمان،۱/۱۷۷،حدیث:۱۵۸)
2 - اللّٰہ تعالیٰ کے عرش کو اُٹھانے والے فرشتے۔
3 - اللّٰہ تعالیٰ کا ان سب پر دُرود و سلام ہو۔
4 - اور یہ مقرب فرشتے اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کی بارگاہ میں بہت زیادہ عزت و عظمت ، شان و شوکت اور قدرو منزلت والے ہیں کہ کوئی وَلی خواہ کتنا ہی مقرب و معظّم ہو وہ ہر گز ہر گز اِن بلند و بالا شان و شوکت والے فرشتوں کو نہیں پہنچ سکتاکیونکہ مرسلینِ ملائکہ بالاجماع تمام غیرِ انبیاء سے اَفضل ہیں اِیسا ہی ’’فتاویٰ رضویہ، ج۲۹ ، ص ۶۲۹‘‘ پر ہے۔
5 - بالکل۔