اور کسی کی نسبت، صدیق ہوں خواہ مرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اِن (حضرات قُدسی صِفات) کی خَادِمی وَ غَاشِیَہ بَرْدَاری (اطاعت و فرمانبرداری کہ یہ ان کے پیش خدمت و اطاعت گزار ہیں، اس)سے بڑھا کر (افضلیت و برتری در کنار) دعویٔ ہَمْسَرِی (1) (کہ یہ بھی مراتبِ رَفیعہ(2) اور ا ن کے درجاتِ عُلیہ(3) میں ان کے ہمسر و برابر ہیں) محض بے دینی، (اِلحاد و زِندیقی ہے)،
جس نگاہِ اِجلال و توقیر (تکریم وتعظیم) سے اُنہیں دیکھنا فرض (ہے اور دائمی فرض) حَاشَا (4) کہ اس کے سَو حصے سے ایک حصہ (۱۰۰ /۱)دوسرے کو دیکھیں،
________________________________
= الرَّحْمٰن’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں فرماتے ہیں :’’اس آیۂ کریمہ نے صاف فرمادیا کہ اللّٰہ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں جُدائی ڈالنے والا پَکَّا کافِر ہے، اور یہ کہ جو اِن سب کو مانے اور ایک ہی کا مُنکِر ہو وہ اللّٰہ اور سب رَسولوں کا مُنکِر اور ویسا ہی پَکَّا کھلا کافِرہے، یہ نہیں کہ جو سب کو مانیں وہ مسلمان اور جو سب سے منکر وہ کافر، اور یہ جو بعض کو مانتے اور بعض کے منکر ہیں کچھ اور ہوں ، نہیں نہیں یہ بھی کُل (سب اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے منکر کی طرح پورے کافر ہیں ، بیچ میں کوئی اور راہ نکل ہی نہیں سکتی۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، ۱۴/ ۷۰۴)
اِسی طرح امامِ اعظم اور آپ کے اَصحاب رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے منقول ہے جیسا کہ شفا شریف میں ہے: (مَنْ کَذَّبَ بِاَحَدٍ مِّنَ الاَنْبِیَاءِ اَوْ تَنَقَّصَ اَحَدًا مِّنْھُمْ اَوْ بَرِیََٔ مِنْہُمْ فَھُوَ مُرْتَدٌّ) ’’ترجمہ: جس نے نبیوں میں سے کسی ایک نبی کو جھٹلایا یا ان میں سے کسی ایک کی شان میں کمی کی یا ان سے برأت کا اِظہار کیا تو وہ مرتد ہے۔‘‘(الشفا ،فصل حکم من سب سائر الانبیاء اللّٰہ، ۲/۳۰۲)
1 - برابری کا دعویٰ۔
2 - بلند مرتبوں ۔
3 - بہت اونچے عہدوں ۔
4 - خدا نہ کرے۔