Brailvi Books

دس عقیدے
58 - 193
 ادیانِ باطلہ(1) سے کِنارہ کَش ہو کر (2) دین ِحق کی طرف جھک آیا۔‘‘
	(غرض انبیاء و مُرْسَلِیْن عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اِلٰی یَوْمِ الدِّیْن میں سے ہر نبی، ہر رسول بارگاہِ عزت جَلَّ مَجْدُہٗ میں بڑی عزت و وجاہت والا ہے، اور اس کی شان بہت رَفیع، ولہٰذا ہر نبی کی تعظیم فرضِ عین بلکہ اصل جملہ فرائض ہے اور) ان کی اَدنیٰ توہین مثل سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن صََلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کفر ِقطعی، (ان میں سے کسی کی تَکْذِیْب و تَنْقِیْص،(3) کسی کی اہانت، کسی کی بارگاہ میں ادنیٰ گستاخی ایسے ہی قطعاً کفر ہے جیسے خود حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی جنابِ پاک میں گستاخی و دَرِیدَہ دَہْنِی،(4) وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی۔)(5)



________________________________
1 -    جھوٹے مذاہب۔
2 -    علیحدگی اختیار کرکے۔
3 -    کسی کو جھٹلانا اور شان گھٹانا۔
4 -    بدزبانی، بدکلامی۔
5 -    اِن انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَاممیں   سے کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلانا یا کسی کا مرتبہ گھٹانا ، کسی کی اِہانت، کسی کی بارگاہ میں   ادنیٰ گستاخی ایسے ہی قطعاً کفر ہے جیسی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جنابِ پاک میں   گستاخی، جیسا کہ شفا ء شریف میں   ہے:’’ اِس شخص کا حکم جس نے اللّٰہ تعالٰیکے تمام انبیاء اور فرشتوں   کو گالی دی یا اِن کی توہین وتذلیل کی یا ان کی لائی ہوئی وحی کو جھٹلایا یا ان کا انکار کیااور تسلیم نہ کیا تو اُس کا حکم ویسا ہی ہے جیسا کہ ہمارے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین وتذلیل کرنے والے کا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: 
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللّٰہ اور اس کے رسولوں   کو نہیں   مانتے اور چاہتے ہیں   کہ اللّٰہ سے اِس کے رسولوں   کو جُدا کردیں  ۔(پ۶،النساء:۱۵۰)
 (الشفا ،فصل حکم من سب سائر الانبیاء اللّٰہ، ۲/۳۰۲)
اِسی آیت ِکریمہ کے تحت سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ =