Brailvi Books

دس عقیدے
56 - 193
 ولایت تک پہنچے،(1) فرشتہ ہو (اگرچہ ُمقَرَّب) خواہ آدمی، صحابی ہو خواہ اہل بیت، (اگرچہ مکرّم تر ومُعَظّم ترین) ان(2) کے درجے تک (اس غیر کو) وُصول محال۔(3) جو قربِ الٰہی اُنہیں حاصل، کوئی اس تک فائز(4) نہیں اور جیسے یہ خدا کے محبوب، دوسرا ہر گز نہیں۔ یہ وہ صدر (وبالا) نشینانِ بزم عزّوجاہ ہیں(5) (اور والا مقامانِ محفل عزت و 



________________________________
=چنانچہ اِسی آیت ِکریمہ کی تفسیر میں   صدرُالْاَفاضِل مولانا سید محمد نعیم الدین مرا د آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشاد فرماتے ہیں  : ’’وہ حضور پرنور سَیِّدُ الْاَنْبِیَاء محمد مصطفے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں   کہ آپ کو بدرجاتِ کثیرہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَامُ پر افضل کیا ، اس پر تمام اُمت کا اجماع ہے اور بکثرت احادیث سے ثابت ہے، آیت میں   حضور کی اِس رِفعت مرتبت کا بیان فرمایا گیا اور نامِ مبارک کی تصریح نہ کی گئی اس سے بھی حضورِا قدس عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کے عُلوِّ شان کا اِظہار مقصود ہے کہ ذاتِ والا کی یہ شان ہے کہ جب تمام انبیاء پر فضیلت کا بیان کیا جائے تو سوائے ذاتِ اَقدس کے یہ وَصف کسی پر صادق ہی نہ آئے اور کوئی اِشْتِبَاہ راہ نہ پاسکے۔‘‘
1 -    ولی بن جائے۔
2 -    یعنی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ۔
3 -    غیر نبی خواہ وہ کسی بھی افضل و اعلیٰ قدر و منزلت کا ولی یا غوث ہو خواہ صحابہ کرام یا اہلِ بَیْت ِاَطْہَار رِضوانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   سے کوئی ہو، یہاں   تک کہ کوئی مقرب فرشتہ یا اَفْضَلُ الْبَشر بَعْدَ الْاَنْبِیَاء حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ہی کیوں   نہہوں   اِن میں   سے کوئی بھی غیرِ نبی کسی بھی طرح کسی نبی کے درجے کو نہیں   پہنچ سکتا جیسا کہ ’’فتاویٰ رضویہ شریف‘‘ میں   ہے:’’مسلمانوں   کا اِجماع ہے کہ کوئی غیر نبی کسی نبی کے برابر نہیں   ہوسکتا، جو کسی غیر نبی کو کسی نبی کے ہمسر یا اَفضل جانے وہ بِالْاِجْمَاع کافِر مرتد ہے۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، ۲۹/ ۲۲۸)    
4 -    پہنچنے والا۔
5 -    عز ت ومرتبے والی محفل کے سردار ہیں  ۔