Brailvi Books

دس عقیدے
55 - 193
عقیدۂ ثالثہ(۳) :
  صدر نشینانِ بزمِ عِزّ وجاہ
     اس جناب(1) عرش قِباب کے بعد (جن کے قبّۂ اطہر اور گنبدِ انور کی رِفعتیں عرش سے ملتی ہیں) مرتبہ اَور(2) انبیاء و مرسلین کا ہے، صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن(3)کہ باہم ان میں تَفَاضُل۔(4)
 (اور بعض کو بعض پر فضیلت)، مگر ان کا غیر، گو کسی مرتبۂ



________________________________
1 -    تیسرا عقیدہ عزت ومرتبے والی محفل کے سرداروں   یعنی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کےبارے میں  ۔
2 -    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔
3 -    یعنی دیگر۔
4 -    اس بلند گنبد والے کے (مقام ومرتبے) کے بعد کہ جن کے پاکیزہ اور نور انی گنبد کی بلندیاں   عرش سے ملتی ہیں  ، مقام ومرتبہ دیگر انبیاء اور رسولوں   کاہے، اللّٰہ تعالیٰ کا ان تمام پر درود وسلام ہو۔
5 -    سارے انبیاء نبوت میں   برابر ہیں  ،البتہ نبوت کے علاوہ دیگر فضائل و خصائص میں   انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامُ کے درجے مختلف ہیں   بعض بعض سے افضل واعلیٰ، اور ہمارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سب سے افضل و اعلیٰ ہیں  ۔
سب سے اَولیٰ واَعلیٰ ہمارا نبی
سب سے بالا و والا ہمارا نبی
اور یہ نہیں   کہہ سکتے کہ بعض بعض سے ادنیٰ یا کم ہیں   کہ اِس طرح کہنے میں   اِن کی توہین ہے،بہرحال جو افضل و اعلیٰ ہیں   اِن کی فضیلت بیان کرنے میں   کوئی حرج نہیں  ، جیسا کہ اللّٰہ تَبَارَک وَتَعَالٰی قرآنِ پاک میں   ارشاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ   (پ ۳، البقرۃ: ۲۵۳)
ترجمۂ کنزالایمان : یہ رسول ہیں   کہ ہم نے اِن میں  ایک کو دوسرے پر افضل کیا ، ان میں   کسی سے اللّٰہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں   بلند کیا=