عقیدۂ ثالثہ(۳) :
صدر نشینانِ بزمِ عِزّ وجاہ
اس جناب(1) عرش قِباب کے بعد (جن کے قبّۂ اطہر اور گنبدِ انور کی رِفعتیں عرش سے ملتی ہیں) مرتبہ اَور(2) انبیاء و مرسلین کا ہے، صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن(3)کہ باہم ان میں تَفَاضُل۔(4)
(اور بعض کو بعض پر فضیلت)، مگر ان کا غیر، گو کسی مرتبۂ
________________________________
1 - تیسرا عقیدہ عزت ومرتبے والی محفل کے سرداروں یعنی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کےبارے میں ۔
2 - صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔
3 - یعنی دیگر۔
4 - اس بلند گنبد والے کے (مقام ومرتبے) کے بعد کہ جن کے پاکیزہ اور نور انی گنبد کی بلندیاں عرش سے ملتی ہیں ، مقام ومرتبہ دیگر انبیاء اور رسولوں کاہے، اللّٰہ تعالیٰ کا ان تمام پر درود وسلام ہو۔
5 - سارے انبیاء نبوت میں برابر ہیں ،البتہ نبوت کے علاوہ دیگر فضائل و خصائص میں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامُ کے درجے مختلف ہیں بعض بعض سے افضل واعلیٰ، اور ہمارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سب سے افضل و اعلیٰ ہیں ۔
سب سے اَولیٰ واَعلیٰ ہمارا نبی
سب سے بالا و والا ہمارا نبی
اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ بعض بعض سے ادنیٰ یا کم ہیں کہ اِس طرح کہنے میں اِن کی توہین ہے،بہرحال جو افضل و اعلیٰ ہیں اِن کی فضیلت بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ اللّٰہ تَبَارَک وَتَعَالٰی قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ (پ ۳، البقرۃ: ۲۵۳)
ترجمۂ کنزالایمان : یہ رسول ہیں کہ ہم نے اِن میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا ، ان میں کسی سے اللّٰہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا=