اور مسلمان وہ جس کا کام ہے نامِ خدا کے ساتھ ان کے نام پرتمام۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ الْاَنَامِ وَ الْاٰلِ وَ الْاَصْحَابِ عَلَی الدَّ وَامِ۔(1)
شرک کی تعریف
شرک کا معنی ہے :اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کو واجب الوجوب یا مستحق عبادت (کسی کو عبادت کے لائق )جاننا یعنی الوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بدترین قسم ہے ۔اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃ شرک نہیں۔(بہار شریعت ،ج۱، ص۱۸۳ مُلَخَّصاً)
________________________________
َ =اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴)
یہ چیزیں اللّٰہ اور اس کے رسول اور اِس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں توراستہ دیکھو (انتظار کرو)یہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم لائے اور اللّٰہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔(پ۱۰،التوبۃ:۲۴)
اِسی آیت ِمبارکہ کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بیان فرماتے ہیں : اس آیت کی تفسیر وہ حدیث ہے کہ فرمایا حضور نے: ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے ماں باپ اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ حضور سے طبعی محبت چاہیے نہ کہ محض عقلی، کیونکہ اِنسان کو اولاد وغیرہ سے طبعی محبت ہوتی ہے ،یہاں اِس سے مقابلہ فرمایا گیا، یہ بھی معلوم ہوا کہ رسولُ اللّٰہ سے محبت اِس قسم کی چاہیے جس قسم کی محبت اللّٰہ سے ہوتی ہے ،یعنی عظمت و اِطاعت والی، یہ بھی معلوم ہوا کہ اللّٰہ کے ساتھ حضور سے محبت کرنی شرک نہیں بلکہ اِیمان کا رُکن ہے ،یہ بھی معلوم ہوا کہ دِل میں حضور کی محبت نہ ہونا کفر ہے، کیونکہ اِس پر عذاب کی وعید ہورہی ہے۔
(تفسیر نور العرفان، پ۱۰، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۴)
بخاری شریف کی مشہور حدیثِ مبارکہ میں ہے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ((لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ)) کہ کوئی شخص اِس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کے نزدیک اُس کے ماں باپ ،بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔‘‘(بخاری،کتاب الایمان، باب حبّ الرسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم من الایمان، ۱/۱۷،حدیث:۱۵)
اس حدیث ِمبارکہ کے تحت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’مؤمن کامل کے اِیمان کی نشانی یہ ہے کہ مؤمن کے نزدیک رسولِ خد ا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام چیزوں اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ومعظّم ہوں ، اس حدیث میں حضور کے زیادہ محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اُونچا مانے اِس طرح کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لائے ہوئے دِین کو تسلیم کرے، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں کی پیروی کرے، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و ادب بجالائے اور ہر شخص اور ہر چیز یعنی اپنی ذات، اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ، اپنے عزیز واقارب اور اپنے مال و اسباب پر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا و خوشی کو مُقَدَّم رکھے، جس کے معنٰی یہ ہیں کہ اپنی ہر پیاری چیز یہاں تک کہ اپنی جان کے چلے جانے پر بھی راضی رہے لیکن حضور کے حق کو دَبتا ہوا گورا نہ کرے۔
(اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان، الفصل الاول،۱/۵۰ ملخصًا)
1 - اور سلام ہو مخلوق میں سب سے بہترذات پر، اور ان کی آل اور اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ۔