منزلتوں اور قُربتوں کے اِظہار کے لیے) زبان بند ہے پر اتنا کہتے ہیں کہ خَلْق کے آقا ہیں ، خالق کے بندے۔(1)عبادت (و پَرَسْتِش)ان کی کُفْر (اور ناقابلِ معافی جرم) (2) اور بے اِن کی تعظیم کے حَبْط (برباد ، ناقابل اعتبار، منہ پر مار دیئے جانے کے قابل) (3)
________________________________
1 - اس محبوب ذات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رِفعتوں ، منزلتوں اور قُربتوں کے اِظہار کے لیے جس قدر قصیدے پڑھے جائیں اور جو کچھ تعریفیں بیان کی جاسکتی ہیں بیان کرلی جائیں اس کے باوجود ہماری زبان گویا کہ بند ہے، ہم کَمَا حَقُّہٗ آپ کی ذاتِ ستودہ صفات کی تعریف بیان کر ہی نہیں سکتے،اے میرے آقا ! آپ اللّٰہ تعالٰی کے برگزیدہ بندے اور تمام مخلوق کے آقاو مولیٰ ہیں ، ساری مخلوق آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غلام، جن و انس اور فِرشتے سب آپ کا کَلِمَہ پڑھتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذِکر میں رَطبُ اللِّسَان ہیں ، اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت جَلَّ جَلَالُہٗ کے بعد سب کے آپ ہی مالک و سردار ہیں ۔
2 - یاد رہے! ان تمام عظمتوں کے با وجود سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات عبادت کے لائق نہیں ۔
3 - ہاں البتہ آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی تعظیم و تکریم کے بغیر ساری عبادتیں وریاضتیں بے کار، حضورِ ا قدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم جزئِ ایمان و رُکنِ ایمان ہے اور فعلِ تعظیم بعد ِاِیمان ہر فرض سے مُقَدَّم ، یہاں تک کہ آدمی اگر فرض نماز میں بھی ہو اور حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام اسے بلائیں اگرچہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کا حکم بجالا رہا ہے لیکن اس کے باوجود حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے بلانے پر تَعْظِیْمًا فوراً ’’لَبَّیْک‘‘ کہے کہ در حقیقت حضور کا بلانا اور اِس بلانے پر اِس کا ’’لَبَّیْک‘‘ کہنا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے حکم کی تعمیل کرنا ہے اور اس تعمیل کے سبب اس کی نماز میں خَلَل نہ آئے گا چنانچہ
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنااُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف تشریف لائے اور انہیں آواز دی اے اُبی! حضرت اُبی نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے آپ کی طرف دیکھا لیکن جواب نہیں دیا پھر مختصر نماز پڑھ کر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف پلٹے اور کہا: اَلسَّلَام عَلَیْکَ =