Brailvi Books

دس عقیدے
51 - 193
سے آشنا نہیں  (قطرہ تو قطرہ، نمی سے بھی بَہْرَہ وَر نہیں  )۔ (1)اے جاہل ناداں  ! علم (وکُنْہِ حقیقت) (2)  کو علم والے پر چھوڑ، اور اس میدان دشوارِ جَو لان سے(3) (جس سے سلامتی سے گزر جانا  جُوئے شِیر  لانا ہے(4)اور سخت مشقتوں   میں   پڑنا)  سَمَنْدِبیان (کلام و خطاب کی تیز و طَرَّار سواری)کی عِنان (باگ دوڑ)موڑ۔(5) (اس والا جناب کی رِفعتوں  ،



________________________________
1 -    اس عبارت میں   یا تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو گوہر، شانِ اُلُوْہِیَّت کو دریا، حُدُوْث و اِفْتِقَار کو صدف اور حصہ شانِ اُلُوْہِیَّت کو قطرہ ونمی سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام فضائل و کمالات کے جامع ہونے کے باوجودحُدُوْث  و اِفْتِقَار  (یعنی رب کی محتاجی)کے پر دے کی وجہ سے شانِ اُلُوْہِیَّت کے اَدنی حصّے سے بھی مُتَّصِف نہیں   ہوسکتے۔ یا پھر عقل کو گوہر ،راز ِالٰہی کو دریا، حُدُوْدِ عقل کو صَدَف اور راز ِالٰہی کے اَدنیٰ حصے کو قطرہ و نمی سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی جس طرح صدف کے خول کی وجہ سے دریا میں   تیرنے والے موتی تک نمی نہیں   پہنچ پاتی اسی طرح عقل راز ِالٰہی کے دریا میں   غوطہ زن ہی کیوں   نہ رہے مَحْدُوْد ہونے کی وجہ سے راز الٰہی کے ادنیٰ حصے سے بھی واقِف نہیں   ہوپاتی۔
2 -    اصل حقیقت ۔
3 -    اس مشکل ترین میدان میں   چکر لگانے سے۔
4 -    مشکل یا نا ممکن کام سر انجام دینا ہے۔
5 -    سیدی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ یہاں   آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ  کی حقیقت ِذات اور اس کی رِفعت و بلندی میں   کلام کرنے والے کو تنبیہ کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں   کہ اے بے وقوف و نادان شخص! آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ  کی حقیقت ِذات اور اِس کی رِفعت و بلندی کا علم ، علم و عزت والے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کر کے آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کی ذَات کی حقیقت اور اِس کی رِفعت وبلندی کا علم ہونا ہمارے بس کی بات ہی نہیں  ، چنانچہ اِس دُشوار گزار میدان (یعنی آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی حقیقت واوصاف کی بلندی) میں   کلام کرنے والی تیز رفتار سواری کی لگام موڑ کہ تو اس کا اہل نہیں   ۔