Brailvi Books

دس عقیدے
50 - 193
 اور کوئی خبر دے تو کیا خبر دے)  نیا سماں   ہے نیا رنگ ہے (ہوش و حواس ان وُسعتوں   میں   گم اور دامانِ نگاہ تنگ) قُربْ میں   بُعْد (نزدیکی میں   دوری) بُعْد میں   قُربْ  (دوری میں   نزدیکی) وَصْل میں   ہِجْر (وصال میں   فرقت)   ہِجْرمیں   وَصْل(فرقت میں   وصال)  ع
( عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے) (1)        
(عقل و شُعُور کو خود اپنا شعور نہیں  ، دَسْتُ و پَا بَسْتَہ خُود گُم کردہ حواس ہے، ہوش و خِرد کو خود اپنے لالے  پڑے ہیں   ، وَہم وگُمان دوڑیں   تو کہاں   تک پہنچیں  ، ٹھوکر کھائی اور گرے۔    ؎ 
 سُراغ اَین و متٰی کہاں   تھا، نشانِ کَیف واِلی کہاں   تھا
      نہ کوئی راہی، نہ کوئی ساتھی ، نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھے(2)        
 جس راز کو اللّٰہ جَلَّ شَاْنُہُ ظاہر نہ فرمائے بے بتائے کس کی سمجھ میں   آئے اور کسی بے وَقار(3)         کی کیا مجال کہ دَرونِ خانۂ خاص  تک قدم بڑھائے)۔ (4)        
 گَوہر شِنَاوَر دریا (گویا موتی پانی میں   تیر رہا ہے)مگر (یوں   کہ) صَدَف (یعنی سِیْپِی)نے وہ پردہ ڈال رکھا ہے کہ نَم 



________________________________
1 -    حدائق بخشش،ص۲۳۶۔
2 -    حدائقِ بخشش، ص۲۳۵۔ کوئی کیا بتائے کہ آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کہاں   گئے؟ کب گئے؟ کیسے گئے؟ کہاں   تک گئے؟ ان تمام سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں   کیونکہ نہ وہاں   کب اور کہاں   کا تصور، نہ کیسے اور کہاں   تک کا نشان ، نہ کوئی (آپ کے سِوا) اس راہ کا مسافر تھا، نہ ہی کوئی آپ کے ساتھ تھا، نہ کوئی منزل کا نشان تھا اور نہ پڑاؤ کرنے کی جگہ، یہ ساری باتیں   عالَمِ ناسُوت(فانی دنیا) سے تعلق رکھتی ہیں   وہ تو عالَم ہی کوئی اور تھا۔
3 -    ایسے ویسے۔
4 -    کسی کی کیا جرأت ہے کہ لامکاں  تک قدم بڑھائے اور راز و نیاز کی باتیں   جاننے کی کوشش کرے۔