Brailvi Books

دس عقیدے
49 - 193
کمانوں   بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا‘‘)،(1)      قسم کھانے کو فرق کا نام رہ گیا۔    ؎
( کمانِ اِمکاں   کے جھوٹے نُقْطو!تم اوّل آخِرکے پَھیر میں   ہو
مُحِیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے، کدھر گئے تھے )
	دِیدارِ اِلٰہی بچشمِ سَر دیکھا، کلامِ الٰہی بے وَاسطہ سُنا(بدنِ ا قدس کے ساتھ بیداری میں  ،(2)اوریہ وہ قربِ خاص ہے کہ کسی نبی مُرْسَل ومَلَک مُقَرَّب(3)           کو بھی نہ کبھی حاصل ہوا اور نہ کبھی حاصل ہو)۔
	 مَحمِلِ لیلیٰ (اِدراک سے ماوَراء )کروڑوں   منزل سے کروڑوں   منزل (دُور اور )خِرَدْخُردَہ میں   (عقل نکتہ دان،دقیقہ شَنَاس) دَنگ ہے،(4) (کوئی جانے تو کیا جانے



________________________________
1 -    چنانچہ ـبخاری شریف کے الفاظ ہیں  : ’’پھر جبریل عَلَیْہِ السَّلَام مجھے آسمانوں   سے بھی اُوپر لے گئے جسے اللّٰہ کے سوا کوئی نہیں   جانتا یہاں   تک کہ سدرۃُ المنتہٰی  آگیا ((وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّۃِ  فَتَدَلّٰی حَتّٰی کَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی)) اور جَبَّار رَبُّ الْعِزَّت (یعنی اللّٰہ تعالٰی)   قریب ہوا پھر اور قریب ہوا یہاں   تک کہ آپ اُس سے( یعنی اللّٰہ سے)  دو کمانوں   کی مقدار بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہوئے۔‘‘ (بخاری،کتاب التوحید،باب قولہ تعالٰی: وکلّم اللّٰہ موسی تکلیما،۴/۵۸۱،حدیث:۷۵۱۷)
2 -    فتح الباری میں   ہے : ’’اِنَّ اللّٰہَ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی کَلَّمَ نَبِیَّہٗ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ الْاِسْرَاءِ  بِغَیْرِ وَاسِطَۃٍیعنیبے شک اللّٰہ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی نے اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے معراج کی رات بغیر کسی واسطے کے کلام فرمایا۔‘‘(فتح الباری،کتاب مناقب الانصار، باب المعراج،۸ / ۱۸۵، تحت الحدیث:۳۸۸۸)
3 -    بزرگ ترین فرشتے۔
4 -    مختصر یہ کہ شبِ معراج ربِّ کریم کی سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جو نوازشیں    ہوئیں   اس کا کَمَاحَقُّہٗ اندازہ عام عقلیں   تو کُجا ، انتہائی زیرک، ذہین و فطین شخص بھی نہیں   لگا سکتا ، بالآخر انسانی عقل حیران و شَشدَر ہی رہ جاتی ہے کیونکہ اس واقعۂ معراج کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنے کی اس میں   صلاحیت ہی نہیں  ۔