حَدو نہایت(1) نہیں ، انہیں کوئی گنتی و شمار میں نہیں لاسکتا )، (2) قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى}،(3) (’’اے نبی بے شک ہر آنے والا لمحہ تمہارے لیے گزرے ہوئے لمحہ سے بہتر ہے‘‘ اور ساعت بساعت(4) آپ کے مَراتِبِ رَفِیْعَہ(5) ترقیوں میں ہیں ۔) مرتبہ {’’قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى‘‘}(6) کا پایا (اور یہ وہ منزل ہے کہ نہ کسی نے پائی اور نہ کسی کے لیے ممکن ہے اس تک رسائی،(7) وہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’شَبِ اَسریٰ(8) مجھے میرے رب نے اتنا نزدیک کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو
________________________________
1 - انتہا
2 - حضور ِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ہر آن ، ہر گھڑی ، ہر لحظہ ، ہر لمحہ بارگاہِ الٰہی سے اِنعام و اِکرام کی بارشیں ہورہی ہیں اس پر وہ اپنے رب کا جتنا شکر کریں کم ہے بلکہ شکر ادا کر ہی نہیں سکتے کہ جس کسی نعمت کا جو کچھ بھی شکر ادا کریں گے درحقیقت وہ شکر ادا کرنا بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کے حق میں ایک اور نعمت ہوگی ، کیوں کہ یہ نعمت ِخداوندی عَزَّوَجَلَّ مزید شکر و ثناء کو لازم کرنے والی ہوگی اور اس کی کوئی انتہا ہی نہیں ، جب کہ اِس پاک بارگاہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسَلَّم پر نازل ہونے والی نعمتیں اورعنایتیں لا محدود و غیر متناہی ہیں ۔
3 - پ۳۰، الضحی: ۴۔
4 - لمحہ بہ لمحہ ، ہر گھڑی۔
5 - بلند ترین درجات۔
6 - تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔(پ۲۷، النجم: ۹) مرتبہ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى ‘‘ سے مراد معراج کی رات محبوب عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام اور رَبُّ الْعَالَمِیْن میں اِنتہائی قُرب بتانا مقصودہے ،اہلِ عرب اِنتہائی نزدیکی بیان کرتے ہیں تو یہی کہا کرتے ہیں کہ وہ دو کمانوں یا دو ہاتھوں تک پہنچ گیا۔
7 - پہنچ ۔
8 - معراج کی رات۔