Brailvi Books

دس عقیدے
47 - 193
 مِثْلِیَّت کا گمان (1)  (تو گمان یہ وہم بھی ان کی ذاتِ کریمہ ، ذاتِ الٰہی عَزَّ شَاْنُہٗ کی عین یا اس کے مثل و مماثل یا شبیہ و نظیر ہے) کافر کے سوا مسلمان کو ہوسکے۔
	 خزانۂ قدرت  میں   ممکن (وحادث و مخلوق) کے لیے جو کمالات مُتَصَوَّر تھے  (تصور و گمان میں   آسکتے تھے یا آسکتے ہیں  ) سب پائے، کہ دوسری کو ہَم عِنانی (وہمسری اور اِن مراتبِ رَفیعہ میں   برابری) کی مجال نہیں  ، مگر دائرۂ عبدیت واِفْتِقار (بندگی و اِحْتِیاج) سے قدم نہ بڑھا، نہ بڑھا سکے، اَلْعَظَمَۃُ لِلّٰہِ،(2)خدائے تعالیٰ سے ذات و صفات میں   مُشَابَہَت (و مُمَاثَلَت)کیسی!!!
 	(اس سے مُشابہ و مُماثل ہونے کا شبہ بھی اس قابل نہیں   کہ مسلمان کے دل، ایمان، منزل میں   اس کا خطرہ گزر(3)  سکے، جب کہ اہلِ حق کا ایمان ہے کہ حضورِ اقدس سرورِ عالم، عالِمِ ا علم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّم اِن احساناتِ الٰہی کا جو بارگاہِ الٰہی سے ہر آن، ہر گھڑی، ہرلَحظہ، ہر لمحہ ان کی بارگاہِ بیکس پناہ پر مَبْذول رہتے ہیں  ، ان انعامات اور ان)  نِعْمائے خداوندی(4) کے لائق جو شکر و ثناء ہے اسے پورا پورا بجا نہ لاسکے نہ ممکن کہ بجالائیں   کہ جو شکر کریں   وہ بھی نعمت ِ آخَر، مُوجِبِ شکرِ دِیگر ، ِالٰی مَا لَا نِھَایَۃَ لَہٗ،نِعَم و اَفضالِ خداوندی(ربّانی نعمتیں   اور بخششیں   خصوصاً آپ پر) غیر مُتَنَاہی ہیں  ، (ان کی کوئی



________________________________
1 -    اصل ذات یا اس کے مانند ہونے کا گمان۔
2 -    بڑائی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے لیے ہے۔
3 -    گمان ہو۔
4 -    اللّٰہ  تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں  ۔