Brailvi Books

دس عقیدے
45 - 193
  ذکر اُونچا ہے ترا، بول ہے بالا تیرا
احکامِ تَشْرِیْعِیَّہ،(1)  شریعت کے فرامین، اَوامرو نَواہی سب ان کے قبضہ میں  ، سب ان کے سِپُرد، جس بات میں   جو چاہیں   اپنی طرف سے فرمادیں   وہی شریعت ہے، جس پر جو چاہیں   حرام فرمادیں  ، اور جس کے لیے جو چاہیں   حلال کردیں  ۔(2)
  	اور جو فرض چاہیں   معاف فرمادیں   وہی شرع ہے۔(3)  غرض وہ کارخانۂ اِلٰہی کے مختارِ کُل ہیں  ،(4) اورخُسْرَوَانِ  عَالَم اس کے دست نِگرومحتاج) (5) (وہ کون؟) 
اَعْنِيْ سَیِّدُ



________________________________
=یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! اللّٰہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں   اس چیز کے لیے بلائیں   جو تمہیں   زندگی بخشے گی۔ (پ ۹، الانفال: ۲۴)
اس کے علاوہ بہت سی آیتیں   ہیں   لیکن یہاں   چند پر اکتفا کیا گیا ہے۔
1 -    احکام کے حلال وحرام کرنے کے اختیارات۔
2 -    محقق علی الاطلاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’مدارجُ النبوۃ‘‘ میں   فرماتے ہیں  : ’’ صحیح اور مختار مذہب یہی ہے کہ احکام حضور کے سپرد ہیں   جس پر جو چاہیں   حکم کریں  ، ایک کام ایک پر حرام کرتے ہیں   اور دوسرے پر مباح، اس کی بہت مثالیں   ہیں   جیسا کہ مُتَتَبِّع  پر مخفی نہیں  ، حق تعالیٰ نے شریعت مقرر کر کے ساری کی ساری اپنے رسول اور اپنے محبوب کے حوالے کر دی (کہ اس میں   جس طرح چاہیں   ترمیم و اضافہ فرمائیں)۔‘‘(مدارج النبوۃ، ۲/۱۸۳)
3 -    ایک شخص سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   آیا اور اس نے اس بات پر اسلام قبول کیا کہ وہ صرف دو نمازیں   پڑھے گا، پس سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی یہ بات قبول فرمالی (یعنی تین نمازیں   معاف فرمادیں  )۔(مسند احمد ،مسند البصریین، ۷/۲۸۳، حدیث: ۲۰۳۰۹)
4 -    قدرت کے معاملات میں   مکمل اختیارات ر کھنے والے ہیں  ۔
5 -    دنیا جہاں   کے بادشاہ ان کے حاجت منداور خواہاں   ۔