حاکم نہیں ،(مَلَکُوْتُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْض میں ان کا حکم جاری ہے، تمام مخلوقِ الٰہی کو اُن کے لیے حکمِ اطاعت و فرمانبرداری ہے۔(1)
وہ خدا کے ہیں اور جو کچھ خدا کا ہے سب اِن کا ہے: ؎
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا ، تیرا(2)
جو سَر ہے اُن کی طرف جھکا ہوا، اور جو ہاتھ ہے وہ ان کی طرف پھیلا ہوا)، سب اُن کے محتاج اور وہ خدا کے محتاج (وہی بارگاہِ اِلٰہی کے وارث ہیں اور تمام عالَم کو اُنہیں کی وساطت (3)سے ملتا ہے ) ۔قرآنِ عظیم ان کی مدح وستائش کا دَفتر۔(4)
(اور ) نام
________________________________
1 - ۔۔۔’’مدارجُ النبوۃ ‘‘ میں ہے:’’ جس طرح حیوانات سب کے سب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖوَسَلَّمَکے حکم کے مطیع وفرمانبردار تھے نباتات (جڑی بوٹیاں ) بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری اور اطاعت کے دائرے میں تھی، جس طرح نباتات کو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کا فرماں بردار اور مطیع بنایا ہوا تھا جمادات بھی یہی حکم رکھتے تھے۔‘‘(مدارج النبوۃ، ۱/۱۹۳۔۱۹۴ ملتقطًا)
2 - حدائق بخشش، ص۱۶۔
3 - یعنی وسیلے۔
4 - چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کی تعریف وتوصیف بیان کی گئی ہے جن میں سے چند ایک ہم یہاں بیان کرتے ہیں : ہمارے آقا عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام اللّٰہ کے رسول ہیں :
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ(پ۲۶، الفتح:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: محمد اللّٰہ کے رسول ہیں ۔
ہمارے آقا عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کا نام احمد ہے:
اِسْمُهٗۤ اَحْمَدُ(پ۲۸، ا لصف: ۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اُن کا نام احمد ہے۔
ہمارے آقا عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام خاتمُ النبیین ہیں :
وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ
ترجمۂ کنز الایمان:ہاں اللّٰہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ (پ۲۲، الاحزاب: ۴۰)