Brailvi Books

دس عقیدے
40 - 193
   حضور ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں  ۔(1) دنیا و آخرت حضور ہی کی عطا کا ایک حصہ ہے:       ؎ 
 فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّ نْیَا وَضَرَّتَھَا(2)
(بے شک دنیا وآخرت آپ کے جودو سخا سے ہے) (3)



________________________________
1 -    المواہب اللدنیۃ میں   ہے: ’’بے شک رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو خزانوں  کی چابیاں   عطاکی گئیں  ، بعض حضرات نے فرمایا: اس سے مراد عالَم کے تمام اَجناس کے خزائن کی چابیاں   ہیں   تاکہ آپ ان کو اس کے مطابق عطا کریں   جو وہ اپنی ذات کیلئے طلب کریں  ، تو پس عالَم میں   جس کا رزق بھی ظاہر ہوتا ہے تووہ کریم باری تعالیٰ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وسیلے ہی سے عطا کرتا ہے جن کے ہاتھ میں   چابیاں   ہیں   کہ جس طرح غیب کی چابیاں   اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہیں  ،پس اُس کے سوا کوئی بھی (اس کے بتائے بغیر) غیب کی بات نہیں   جانتا، اور اس سید کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو خزانوں   کی چابیاں   دے کر خزانوں   کی تقسیم آپ کے ساتھ خاص کردی، (لہٰذا جس کو جو ملتا ہے آپ کے ہاتھوں   سے ملتا ہے)۔‘‘ (المواھب اللدنیۃ، الفصل الثانی،اعطی مفاتیح الخزائن،۲/۲۷۸) جواہرُالبحار میں   ہے: ’’اللّٰہ تعالیٰ نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکے سبب بندوں   پر قسم قسم کی خیرات اور دنیوی واُخروی سعادتوں   کے دروازے کھولے، ہر قسم کا رزق حضور کے ہاتھ مبارک سے تقسیم ہورہا ہے۔‘‘ (جواہر البحار،۳/۳۷)
2 -    قصیدۃ البردہ مع شرحہا، ص۲۹۳۔
3 -    امام اجل محمد بوصیری قُدِّسَ سِرُّہٗ حضور سید عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کرتے ہیں  :
فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَہَا	وَ مِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ
(قصیدۃ البردہ مع شرحہا، ص۲۹۳)
سیدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ الرَّحْمَۃُ الرَّحْمٰن’’ فتاوٰی رضویہ شریف‘‘ میں   اس شعر کے متعلق فرماتے ہیں   کہ ’’یہ شعر قصیدہ بردہ شریف کا ہے جس میں   سیِّدی امام اجل محمد بوصیری قُدِّسَ سِرُّہٗ حضور سید عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے عرض کرتے ہیں  : ’’یارسولَ اللّٰہ! دنیا وآخرت دونوں   حضور کے خوانِ جود و کرم سے ایک حصہ ہیں   اور لوح وقلم کے تمام علوم جن میں   مَا کَانَ وَمَا یَکُوْن (جو کچھ ہوا اور جو کچھ قیامِ قیامت تک ہونے والا ہے) ذرّہ ذرّہ بِالتَّفْصِیْل مندرج ہے حضور کے عُلُوم سے ایک پارہ ہیں  ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۴۹۵)