دنیا ودیں میں جو جسے ملتا ہے ان کی بارگاہِ عرش اِشْتِباہ(1) سے ملتا ہے، (جنت و نار کی کُنْجیاں دستِ اقدس میں دے دی گئیں ۔(2) رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں
________________________________
1 - بلند وبالا عظمت والے دربار۔
2 - اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ ’’ فتاوی رضویہ شریف‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ابن عبدالبر کتاب ’’بہجۃُ المجالس‘‘ میں راوی کہ حضور پر نور اَفْضَلُ صَلَوَاتُ اللّٰہِ تَسْلِیْمَاتُہٗ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’روزِ قیامت صراط کے پاس ایک منبر بچھایا جائیگا پھر ایک فرشتہ آکر اس کے پہلے زینہ پر کھڑا ہوگا اورنداکرے گا :اے گروہ مسلمانان! جس نے مجھے پہچانا اس نے پہچانا اورجس نے نہ پہچانا میں مالک داروغۂ دوزخ ہوں اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ جہنم کی کنجیاں محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دے دوں اورمحمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم ہے کہ ابو بکر صدیق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)کے سپرد کردوں ، ہاں ہاں ! گواہ ہوجاؤ، ہاں ہاں ! گواہ ہوجاؤ، پھر ایک اورفرشتہ دوسرے زینہ پرکھڑا ہوکر پکارے گا: اے گروہ مسلمین! جس نے مجھے جانااس نے جانا اورجس نے نہ جانا تو میں رضوان داروغہ ٔجنت ہوں ، مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ جنت کی کنجیاں محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو دے دوں اور محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا حکم ہے کہ ابوبکر (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) کے سپرد کردوں ، ہاں ہاں ! گواہ ہو جاؤ، ہاں ہاں ! گواہ ہوجاؤ۔‘‘ (علامہ ابراہیم بن عبد اللّٰہ المدنی الشافعی نے اپنی تحقیقی کتاب ’’الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء‘‘ کے ساتویں باب میں فضائل صدیق میں بیان کیا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۴۳۱۔۴۳۲)