اور تمام آدمیوں کے وہ مالک۔(1)جو اُنہیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت(2) سے محروم۔(3) مَلَکُوتُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ(4)
________________________________
1 - حضرت اعشی مازنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میں نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں نے شعر پڑھا: ((یَا مَالِکَ النَّاسِ وَدَیَّانَ الْعَرَبْ۔۔۔الخ)) ترجمہ: ’’اے تمام آدمیوں کے مالک اور اے عرب کے جزا و سزا دینے والے۔‘‘(مسند احمد،مسند عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص، ۲/۶۴۴،حدیث:۶۹۰۲)اعلیٰ حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’فتاویٰ رضویہ شریف‘‘ میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ِجلیل اتنے اَئِمَّۂ کبار نے باسانید ِ متعدّدہ روایت کی اور طریق ِاخیر میں یہ لفظ ہیں کہ اعشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کی پناہ لی اور عرض کی کہ اے مالک ِ آدمیاں ! و اے جزا و سزا دہ عرب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْکَ وَبَارَکَ وَسَلَّم۔ (فتاویٰ رضویہ،۳۰/۴۴۷)
2 - سنّت کی لذت و مٹھاس۔
3 - امام قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’شفا شریف ‘‘میں فرماتے ہیں :حضرت سہل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’جو ہر حال میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنا والی اور اپنے آپ کو حضور کی ملک نہ جانے وہ سنتِ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حلاوت سے اصلاً خبردار نہ ہوگا، اس لیے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تم میں سے کوئی (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔‘‘(الشفا،الباب الثانی فی لزوم محبتہ،۲/۱۹، فتاویٰ رضویہ،۳۰/۴۲۵)
4 - زمین وآسمان کی سلطنت۔