Brailvi Books

دس عقیدے
35 - 193
تمام عالم اِن کے تحتِ تصرف، اِن کے زیرِ اختیار، اِن کے سِپُرد کہ جو چاہیں   کریں   جسے جو چاہیں   دیں   اور جس سے جو چاہیں   واپس لیں  ۔(1)  تمام جہان میں   کوئی اِن کاحکم پھیرنے والا نہیں  ،(2)  اور ہاں   کوئی کیونکر ان کا حکم پھیر سکے کہ حکمِ الٰہی کسی کے پھیرے نہیں   پھرتا۔(3) تمام جہان ان کا محکوم(4) 



________________________________
1 -    مُحَقِّق عَلَی الْاِطْلَاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  : ’’حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کا تصرف اور آپ کی قدرت اور سلطنت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی سلطنت اور قدرت سے زیادہ تھی، ملک و ملکوت جن اور انسان اور سارے جہان اللّٰہ تعالیٰ کے تابع کر دینے سے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکے تصرف اور قدرت کے احاطے میں   تھے۔ (اشعۃ اللمعات،کتاب الصلٰوۃ،باب مالایجوز۔۔۔الخ،الفصل الاول،۱/۴۶۳) ’’الجوہرالمنظم‘‘ میں   ہے: ’’بے شک نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے خلیفہ ہیں  ، اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے کرم کے خزانے اور اپنی نعمتوں   کے خوان حضور کے دستِ اقدس اور ان کے ارادہ واختیار میں   دے دیئے ہیں   کہ جسے چاہیں   عطا فرماتے ہیں   اور جسے چاہیں   روکے رکھتے ہیں  ۔(الجوہرالمنظم،ص۴۲ملخصًا)
2 -    ان کی بات کو رد کرنے والا نہیں  ۔ المواہب اللدنیۃ میں   ہے: ’’نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خزانۂ رازِ الٰہی اور احکام کو نافذ کرنے والے ہیں   ، کوئی حکم نافذ نہیں   ہوتا مگر حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے دربار سے، اور کوئی نعمت کسی کو نہیں   ملتی مگر حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے دربار سے، خبردار رہو! میرے ماں   باپ قربان ان پر جو بادشاہ اور سردار ہیں   اس وقت سے کہ آدم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام ابھی آب وگل کے اندر ٹھہرے ہوئے تھے، وہ جس بات کا ارادہ فرمائیں   اس کا خلاف نہیں   ہوتا، تمام جہان میں   کوئی ان کے حکم کو پھیرنے والا نہیں  ، صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔(المواہب اللدنیۃ،المقصد الاول،تشریف اللّٰہ تعالٰی لہ، ۱/۲۸)
3 -    کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا حکم دینا، جیسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا حکم کوئی رد نہیں   کر سکتااسی طرح حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حکم بھی کوئی رد نہیں   کر سکتا۔
4 -    غلام، زیر فرمان۔ نسیم الریاض میں   ہے: ’’نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صاحب ِامرونہی ہونے کے یہ معنی ہیں   کہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام حاکم ہیں   آپ کے سوا عالَم میں   کوئی حاکم نہیں  ، نہ وہ کسی کے محکوم، پس جب وہ کسی بات میں   فرمادیں  :  ’’نہیں   ‘‘   یا  ’’ ہاں  ‘‘، اور وہ کوئی بات نہیں   کہتے مگر ٹھیک ٹھیک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے موافق، تو کسی کو بھی ان کی بات مانے بغیر چارہ نہیں  ، پس اس وقت جب وہ کوئی فیصلہ فرمادیں   تو نہ کوئی ان کے فیصلے کو روک سکتا ہے اور نہ ان کے فیصلے کو ردکرسکتا ہے،اور وہ اپنی بات میں   سب سے زیادہ سچے ہیں  ۔‘‘(نسیم الریاض، القسم الاوّل فی تعظیم۔۔۔الخ، ۲/ ۲۸۱، فتاویٰ رضویہ،۳۰/۵۶۵)