Brailvi Books

دس عقیدے
34 - 193
	منشورِ خلافت مطلقہ(1) (تامہ ، عامہ، شاملہ، کاملہ)  و تفویضِ تام(2)  (کا فرمانِ شاہی)ان کے نامِ نامی (اسم گرامی) پر پڑھا گیا اور سکہ و خطبہ ان کا ملائِ ادنیٰ سے عالَمِ بَالا  تک جاری ہوا(3) (تو وہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے نائب مطلق ہیں  ۔(4) اور ماسوی اللّٰہ  



________________________________
1 -    مطلقاً جانشینی کا پروانہ۔
2 -    مکمل اختیارات۔
3 -    فرش سے عرش تک آپ کی حمد و ثناء کا خطبہ اور شاہی فرمان پڑھا گیا۔
4 -    مُحَقِّق عَلَی الْاِطْلَاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  : ’’حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام اللّٰہ تعالیٰ کے خلیفۂ مطلق اور نائبِ کل ہیں   جو چاہیں   کرتے ہیں   اور جو چاہیں   عطا فرماتے ہیں  ۔‘‘ (اشعۃاللمعات،کتاب الفتن،باب اشراط الساعۃ،الفصل الثانی،۴/۳۳۵) سیّدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  : حدیث پاک میں   ہے: ’’ جب اللّٰہ تعالیٰ نے عرش بنایا اس پر نور کے قلم سے جس کا طول (لمبائی) مشرق سے مغرب تک تھالکھا: اللّٰہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں   محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اللّٰہ کے رسول ہیں  ، میں   اِنہی کے واسطے سے لوں   گااور اِن ہی کے وسیلے سے دوں   گا ،ان کی اُمت سب امتوں   سے افضل ہے اور ان کی اُمت میں   سب سے اَفضل ابوبکر صدیق۔‘‘ (کنزالعمال،کتاب الفضائل،الفصل الثانی فی فضائل الخلفاء۔۔۔الخ،الجزء۱۱،۶/۲۵۱،حدیث:۳۲۵۷۸) بِحَمْدِاللّٰہِ تَعَالٰی اس حدیثِ جلیل جامع پر ختم کیجئے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کا تمام لینا دِینا، اخذ و عطا سب مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھوں  اِن کے وَاسطے اِن کے وَسیلے سے ہے، اِسی کو خلافت ِ عظمیٰ کہتے ہیں  ۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُحَمْدًاکَثِیْرًا۔(الامن والعلی،ص۸۴)