چاہتے ہیں جو خدا چاہتا ہے۔(1)
________________________________
1 - جو ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چاہتے ہیں خدا تعالیٰ بھی وہی چاہتا ہے، اِس لیے کہ حضور کی چاہت وہی ہوتی ہے جو خدا چاہتا ہے چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی خدمتِ ا قدس میں عرض کی: ’’میں دیکھتی ہوں کہ آپ کا ربّ آپ کی چاہت پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔‘‘(بخاری، کتاب التفسیر،باب ترجی من تشاء۔۔۔الخ،۳/۳۰۳،حدیث:۴۷۸۸) اور حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی چاہت وپسند کا اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کس قدر خیال رکھتا ہے اِس کے لیے چند ایک آیات ملاحظہ ہوں چنانچہ اِرشادِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ہے:
فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا
ترجمۂ کنزالایمان: تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اِس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے۔(پ۲، البقرۃ: ۱۴۴)
تفسیر قرطبی میں اس آیتِ کریمہ :
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى
ترجمۂ کنز الایمان: اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔(پ ۳۰ ، الضحی: ۵)
کے نزول پر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ((اِذًا وَ اللّٰہِ لَا اَرْضٰی وَ وَاحِدٌ مِّنْ اُمَّتِیْ فِی النَّارِ)) ’’رَبّ کی قسم ہے کہ میں اُس وقت تک راضی یعنی خوش نہ ہوں گا جب تک میرا ایک اُمتی بھی دوزخ میں رہے۔‘‘(تفسیر قرطبی، پ ۳۰، الضحی، تحت الاٰیۃ: ۵، ۱۰ /۶۸، فتاویٰ رضویہ، ۲۹/۵۷۲)تفسیر روح البیان میں ہے: ’’حدیثِ پاک میں ہے کہ میں اپنی اُمت کی شفاعت فرماتا رہوں گا یہاں تک کہ میرے لیے نِدا کی جائے گی: اے محمد ! کیا تم راضی ہوگئے؟ ((فَاَقُوْلُ: رَبّ قَدْ رَضَیْتُ))،میں عرض کروں گا: الٰہی ! میں راضی ہوگیا ۔‘‘ (تفسیرروح البیان، پ۳۰، الضحی، تحت الاٰیۃ: ۵، ۱۰ / ۴۵۵، فتاویٰ رضویہ، ۲۹/۵۷۳) سُبْحَانَ اللّٰہ! تمام مخلوق رب کو راضی کرنا چاہتی ہے مگر حضور ربّ کے مطلوب و محبوب ہیں کہ ربّ انہیں راضی فرمانا چاہتا ہے۔
خدا کی رِضا چاہتے ہیں دو عالَم
خُدا چاہتا ہے رضَائے محمد