Brailvi Books

دس عقیدے
32 - 193
 اور چاند کو اِشارہ کریں   (تو) فوراً دو پارہ ہو۔(1)  جو (یہ) چاہتے ہیں   خدا وہی چاہتا ہے کہ یہ وہی 



________________________________
1 -    اگر چاند کو اشارہ کردیں   تو وہ دوٹکڑے ہوجائے چنانچہ آیت ِ کریمہ :{ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ }کے تحت ’’تفسیر نور العرفان‘‘  میں   ہے: ’’ علامہ احمد خرپوتی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے ’’شرح قصیدہ بُردہ‘‘  میں   فرمایا کہ ابوجہل نے اپنے یمنی دوست حبیب یمنی کو بُلایا تاکہ وہ مکہ والوں   کو اِسلام سے روکنے میں   اِس کی مدد کرے ، حبیب مکہ معظمہ آیا تو ابوجہل نے حضور کی بہت شکایتیں   کیں  ، اِس نے کہا کہ اچھا میں   اِن سے بھی مل کر دریافت کرلوں  ، حضور کی خدمت میں   قاصد بھیجا کہ میں   یمن سے آیا ہوں  ، فلاں   جگہ سردارانِ قریش کے ساتھ بیٹھا ہوں  ،آپ سے ملنا چاہتا ہوں   یہ رات کا وقت ہے چودھویں   شب تھی، حضور تشریف لے گئے، حبیب نے حضور سے دریافت کیا کہ آپ کیادعوت دیتے ہیں  ؟ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللّٰہ کی توحید اور اپنی رِسالت کی ۔ حبیب بولا کہ آپ کے پاس معجزہ کیا ہے؟ تو فرمایا: ’’جو تو چاہے۔‘‘ حبیب نے کہا کہ میں   دو معجزے چاہتا ہوں   ایک یہ کہ آپ چاند چیر دیں  ، دوسرا مطالبہ پھر عرض کروں   گا، حضور نے فرمایا کہ اچھا صفا پہاڑ پر چل ، حبیب مع تمام سردارانِ قریش کے حضور کے ساتھ صفا پر گئے، حضور نے چاند کی طرف اُنگلی سے اِشارہ کیا، چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ، اور اِن ٹکڑوں   میں   اِتنا فاصلہ ہوگیا کہ ایک ٹکڑا پہاڑ کےاِس طرف دوسرا اُس طرف، بہت دیر کے بعد خُوب دِکھا کر پھر جو اِشارہ کیا تو دونوں   ٹکڑے مل گئے، حضور نے پوچھا :’’حبیب دوسرا مطالبہ کرو؟‘‘ ، وہ بولا کہ حضور خود معلوم کرلیں   کہ میرے دِل میں   کیا ہے، تب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ تیری ایک لڑکی ہے لنگڑی، لولی، اَندھی ، بہری، جوان ہوچکی ہے، تو چاہتا ہے کہ یا تو اِسے شفا ہوجائے یا مرجائے، جا اِسے شفا ہوگئی اور تو یہاں   کلمہ پڑھ لے، حبیب اور بہت سے لوگ ایمان لے آئے، ابوجہل نے کہا: یہ سب جاد وہے۔‘‘(تفسیر نورالعرفان، پ ۲۷، القمر، تحت الآیۃ: ۱، ص ۸۴۳)